مذہب اور جدید چیلنج
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
دیں، اس صورت میں مقتول کے بوڑھے والدین کو مثلاً ایک بڑی رقم مل جائیگی، اور وہ اس رقم سے اپنی گزر بسر کا انتظام کر سکیں گے ۔ مخصوص حالات میں ریاست کو بھی یہ حق ہے کہ وہ دیت کی رقم میں اضافہ کر دے تا کہ بے سہارا وارثین کی کچھ مدد ہو جائے ۔ یہ ایک نہایت حکیمانہ قانون ہے، اور تجربہ بتاتا ہے کہ وہ جہاں رائج ہو قتل کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے برعکس، جن ممالک میں سزائے موت کو منسوخ کیا گیا ہے، وہاں جرائم گھٹنے کے بجائے اور بڑھ گئے ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے ممالک میں قتل کی وارداتوں میں بارہ فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ چنانچہ اس کی بھی مثالیں موجود ہیں کہ پہلے سزائے موت کو منسوخ کیا گیا ۔ اور اس کے بعد نتائج دیکھ کر دوبارہ اسے بدل دیا گیا۔ سیلون (سری لنکا) اسمبلی نے 1956ء میں ایک قانون پاس کیا، جس کے مطابق سیلون کی حدود میں موت کی سزا کو ختم کر دیا گیا، اس قانون کے نفاذ کے بعد سیلون میں جرائم تیزی سے بڑھنا شروع ہو گئے۔ ابتدا میں لوگوں کو ہوش نہیں آیا، مگر 26 ستمبر 1959 ء کو جب ایک شخص نے سیلون کے وزیر اعظم بندرانا ئیک کے مکان میں گھس کر نہایت بے دردی کے ساتھ ان کو قتل کر دیا تو سیلون کے قانون سازوں کی آنکھ کھلی، اور وزیر اعظم کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے فوراً بعد سیلون اسمبلی کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں چار گھنٹے کے بحث ومباحثہ کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ سیلون کی حکومت 1956 ء کے قانون کو منسوخ کر کے ملک میں سزائے موت کو دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ معیشت مذہب، معاشیات کی جو تنظیم کرتا ہے، اس میں ذرائع پیداوار اور انفرادی ملکیت کو تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اس کا سارا ڈھانچہ بنیادی طور پر، انفرادی ملکیت کے اوپر قائم ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader