مخالفینِ مذہب کا مقدمہ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
3۔ مذہب کے خلاف مقدمے کی تیسری بنیاد تاریخ ہے۔ مخالفین مذہب کا دعویٰ ہے کہ ہم نے تاریخ کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ مذہبی تصورات پیدا ہونے کی وجہ وہ مخصوص تاریخی حالات ہیں، جو اس سے پہلے انسان کو گھیرے ہوئے تھے۔ قدیم زمانے میں سائنس کی دریافتوں سے پہلے سیلاب، طوفان اور بیماری وغیرہ سے بچنے کا انسان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ وہ مستقل طور پر اپنے آپ کو غیر محفوظ زندگی میں پاتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنی تسکین کے لیے کچھ ایسی غیر معمولی طاقتیں فرض کرلیں، جن کو وہ مصیبت کے وقت پکارے اور جن سے دفع بلا کی امید رکھے ۔ اسی طرح سماج کے اندر باہمی پیوستگی پیدا کرنے اور ایک مرکز کے گرد لوگوں کو جوڑے رکھنے کے لیے بھی کسی چیز کی ضرورت تھی۔ یہ کام اس نے ایسے معبودوں سے لیا جو سارے انسانوں کے اوپر ہوں اور جن کی مرضی حاصل کرنا ہر ایک کے لیے ضروری ہو، وغیرہ وغیرہ، علوم اجتماعی کی انسائیکلوپیڈیا میں مذہب (Religion) کا مقالہ نگار لکھتا ہے : ”جس طرح دوسرے اسباب مذہب کو پیدا کرنے میں اثر انداز ہوئے ہیں، اسی طرح اس میں سیاسی اور تمدنی حالات کا بھی دخل رہا ہے۔ خداؤں کے نام اور ان کی صفات خود بخود وقت کے نظام سلطنت کی صورت میں ڈھل گئے۔ خدا کو بادشاہ ماننے کا عقیدہ محض انسانی بادشاہت کی بدلی ہوئی شکل ہے، اور آسمانی بادشاہت صرف زمینی بادشاہت کا ایک چربہ ہے۔ نیز چوں کہ بادشاہ سب سے بڑا جج بھی ہوتا تھا، اسی طرح خدا کو بھی عدالت کی کارروائیاں سپرد کر دی گئیں اور یہ عقیدہ بن گیا کہ وہ انسان کی بدی یا نیکی کے بارے میں آخری فیصلہ کرے گا۔ اس قسم کا عدالتی تصور جو خدا کو حساب لینے والا اور اختیار والا مانتا ہے، اس نے نہ صرف یہودیت میں بلکہ عیسائیت اور اسلام کے مذہبی نقطہ نظر میں بھی مرکزی مقام حاصل کر لیا ہے۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader