Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

مخالفینِ مذہب کا مقدمہ

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح مخصوص تاریخی دور کے حالات اور ان حالات کے ساتھ انسانی ذہن کے باہمی تعامل نے وہ تصورات پیدا کیے جن کو مذہب کہا جاتا ہے۔ ”مذہب انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ جو عدم واقفیت اور خارجی قوتوں کے مقابلے میں بے سہارا ہونے کی ایک خاص حالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔“ جولین ہکسلے یہ ریمارک دیتا ہوا لکھتا ہے: "Religion is the product of a certain type of interaction between man and his environment." Man in the Modern World, 1950, Britain, p. 132 یعنی مذہب نتیجہ ہے۔ انسان اور اس کے ماحول کے درمیان ایک خاص طرح کے تعامل کا۔ اب چوں کہ وہ مخصوص ماحول ختم ہوگیا ہے، یا کم از کم ختم ہورہا ہے، جو اس طرح کے تعامل کو وجود میں لانے کا ذمہ دار تھا۔ اس لیے اب مذہب کو زندہ رکھنے کی بھی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ ہکسلے مزید لکھتا ہے: ”خدا کا تصور اپنی افادیت کے آخری مقام پر پہنچ چکا ہے، اب وہ مزید ترقی نہیں کر سکتا۔ مافوق الفطری طاقتیں دراصل مذہب کا بوجھ اٹھانے کے لیے انسانی ذہن نے اختراع کی تھیں۔ پہلے جادو پیدا ہوا، پھر روحانی تصرفات نے اس کی جگہ لی، پھر دیوتاؤں کا عقیدہ ابھرا اور اس کے بعد ایک خدا کا تصور آیا۔ اس طرح ارتقائی مراحل سے گزر کر مذہب اپنی آخری حد کو پہنچ کر ختم ہو چکا ہے۔ کسی وقت یہ خدا ہماری تہذیب کے ضروری مفروضے اور مفید تخیلات تھے، مگر اب جدید ترقی یافتہ سماج میں وہ اپنی ضرورت اور افادیت کھو چکے ہیں۔“ The concept of God has reached the limits of its usefulness : it cannot evolve further. Supernatural powers were created by man to carry the burden of religion. From diffuse magic mana to personal spirits; from spirits to gods; from gods to God—so crudely speaking, the evolution has gone. The particular phase of that evolution which

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page