معیشت
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ نظام عرصہ تک باقی رہا(۱)۔ مگر صنعتی انقلاب کے بعد یورپ میں انفرادی ملکیت کے اصول پر زبردست تنقیدیں شروع ہوئیں، یہاں تک کہ تعلیم یافتہ طبقہ کی عام فضا اس کے خلاف ہو گئی، انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول کے درمیان سو برس تک ایسی فضا رہی گویا انفرادی ملکیت ایک مجرمانہ قانون تھا، جو دور وحشت میں انسانوں کے درمیان رائج ہوگیا، اور اب جدید علمی ترقی نے اجتماعی ملکیت کا اصول دریافت کیا ہے، جو معاشیات کی بہتر تنظیم کے لیے اعلیٰ ترین اصول ہے۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار اجتماعی ملکیت کے نظام کا تجربہ شروع ہوا، زمین کے ایک بڑے حصے میں اس کو نافذ کیا گیا، اس کے حق میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے، بڑی بڑی امیدیں باندھی گئیں، مگر طویل تجربہ سے ثابت ہوگیا کہ اجتماعی ملکیت کا نظام نہ صرف یہ کہ غیر فطری ہونے کی وجہ سے اپنے قیام کے لیے تشدد پیدا کرتا ہے، نہ صرف یہ کہ وہ انسان کی ہمہ جہتی ترقی میں مانع ہے، نہ صرف یہ کہ سرمایہ داری سے بھی زیادہ ایک مرکوز اور جابرانہ نظام کا موجب ہے بلکہ خود وہ زرعی اور صنعتی پیداوار بھی اس میں ملکیتی نظام کے مقابلے میں کم حاصل ہوتی ہے، جس کے لیے آزادی اور ہمہ جہتی ترقی کی قربانی دی گئی تھی۔ یہاں میں روس کی مثال دوں گا، روس کی تمام زمینیں اس وقت سرکاری ملکیت میں تبدیل کی جا چکی ہیں، اور پورے ملک میں ’’اجتماعی انتظام‘‘ کے تحت کاشت کی جاتی ہے، ساری زمینیں سرکاری اور پنچایتی فارم کی صورت میں ہیں، نہ کہ نجی ملکیت کی صورت میں۔ البتہ 1935ء کے فیصلے کے مطابق ہر کسان کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رہائشی مکان سے متصل اپنے ذاتی استعمال کے لیے ایک تہائی یا نصف ایکڑ اور بعض مخصوص صورتوں میں (۱) انفرادی ملکیت کا نظام جو ساری دنیا میں جاری ہوا وہ دراصل مذہب ہی کے اثر کا نتیجہ تھا، اور اسی لیے مارکس اور اس کے متبعین نے مذہب کی شدید مخالفت کی کیوں کہ اس کے بغیر انفرادی ملکیت کی اہمیت کو ذہنوں سے نکال نہیں سکتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader