Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

معیشت

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

دوا ایکڑ تک زمین پر قبضہ رکھ سکتا ہے ، اسی طرح اسے یہ بھی حق ہے کہ اپنے مکان میں محدود تعداد میں گائے ، بکری ، بھیڑ اور مرغی وغیرہ پالے ، 1961 ء کے اعداد و شمار کے مطابق روس میں کل زیر کاشت رقبہ 204 بلین ہیکٹیّر ( Hectares) تھا ، جس میں نجی رقبہ کی مجموعی مقدار چھ ملین ہیکٹیّر تھی ، یعنی کل کاشت زمین کا صرف تین فیصد حصہ ، مگر 1961 ء میں آلو کی پیداوار کا جو تناسب تھا ، وہ حسب ذیل ہے : پیداوار زیر کاشت زمین 3,08,00,000 ٹن 43,5,2,000 اجتماعی رقبہ 5,35,00,000 ٹن 45,26,000 نجی رقبہ اس طرح نجی رقبہ پر پیدا ہونے والے آلو کی مقدار گیارہ ٹن فی ہیکٹیّر تھی ، جب کہ سرکاری فارموں میں یہ مقدار صرف سات ٹن فی ہیکٹیّر تھی ، حالانکہ سرکاری فارموں کو جدید زرعی مشینیں ، موزوں زمین اور معدنی کھاد وغیرہ کی وہ سہولتیں حاصل تھیں جن سے نجی رقبے قدرتی طور پر محروم تھے۔ اسی قسم کا تناسب دوسرے اجناس کی پیداوار میں بھی پایا جاتا ہے۔ مویشیوں کی حالت اس سے بھی زیادہ خراب ہے ، چارہ کی کمی اور ناقص دیکھ بھال کی وجہ سے سرکاری فارموں میں کثرت سے جانور مر جاتے ہیں چنانچہ صرف ایک ریاست میں 1962 ء کے گیارہ مہینوں میں مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار مویشی مرگئے ، اس کے مقابلے میں ہر قسم کی دشواریوں کے باوجود نجی طور پر پالے ہوئے مویشیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، اور باعتبار تناسب وہ سرکاری جانوروں سے زیادہ مفید ثابت ہو رہے ہیں ، اور زیادہ پیداوار دے رہے ہیں۔ چنانچہ سرکاری فارم جو کل تعداد کا 75 فی صدی مرغیوں اور مویشیوں کے مالک ہیں ، انھوں نے نجی ذرائع کے مقابلے میں صرف دس ( 10 ) فیصد زیادہ گوشت فراہم کیا اور انڈے میں تو نجی پیداوار نے انھیں بہت پیچھے چھوڑیا۔ 1961 ء کے اعداد و شمار ملاحظہ ہوں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page