معیشت
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعی رقبہ نجی رقبہ گوشت 48,00,00 ٹن 39,00,000 ٹن دودھ 3,4,00,000 ٹن 2,85,00,000 ٹن انڈٹا 6,300 ٹن 23,000 ٹن اون 2,87,000 ٹن 79,000 ٹن حتیٰ کہ یہ محدود نجی ذرائع خود حکومتی مرکزوں کو غذائی اشیا سپلائی کرتے ہیں، چنانچہ 1962ء میں صرف ایک ریاست میں حکومت نے اپنے دفاتر کا 26 فیصد آلو اور 34 فیصد انڈے نجی فارموں سے حاصل کیا ہے، اور اسی طرح دوسری چیزیں۔ Bulletin, Germany, November 1963 اس اجتماعی ملکیت کا آخری انجام یہ ہے کہ روس جو زار کے زمانے میں، جب کہ وہاں نجی ملکیت کا نظام رائج تھا، اناج کے معاملے میں دنیا کے چند بڑے برآمدی ملکوں میں سے تھا، اس نے 1963ء میں کناڈا، آسٹریلیا اور امریکا سے پندرہ ملین ٹن گیہوں خریدا ہے، اور یہ صورتِ حال مسلسل جاری ہے، چنانچہ 56-1941ء میں اس نے امریکا سے بارہ لاکھ پچاس ہزار ٹن غلہ خریدا ہے، اسی طرح بعد کے سالوں میں بھی یہی حال دوسرے اشتراکی ملک چین کا بھی ہے۔ Bulletin, Oct. 1963 اس تجربے سے معلوم ہوا کہ مذہب کا قانون جس ذہن سے نکلا ہے، وہ انسانی فطرت کو زیادہ جاننے والا ہے، اور اس کے مسائل کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کچھ جو تمدن کی تعمیر کے لیے ہمیں درکار ہے، اس کا واحد اور حقیقی جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔ مذہب اعلیٰ انسانی ذہن سازی کی طرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader