Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے جرمن مفکر فریڈرش نگلس (1829-1895 ,Friedrich Engels) نے کہا ہے — "آدمی کو سب سے پہلے تن ڈھانکنے کو کپڑا اور پیٹ بھرنے کو روٹی چاہیے ، اس کے بعد ہی وہ فلسفہ و سیاست کے مسائل پر غور کر سکتا ہے۔" مگر حقیقت یہ ہے انسان سب سے پہلے جس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے، وہ یہ سوال ہے — "میں کیا ہوں؟ یہ کائنات کیا ہے؟ میری زندگی کیسے شروع ہوئی اور کہاں جا کر ختم ہوگی؟" یہ انسانی فطرت کے بنیادی سوالات ہیں، آدمی ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے، جہاں سب کچھ ہے مگر یہی ایک چیز نہیں، سورج اس کو روشنی اور حرارت پہونچاتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیوں انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے، ہوا اس کو زندگی بخشتی ہے مگر انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس کو پکڑ کر پوچھ سکے کہ تم کون ہو اور کیوں ایسا کر رہی ہو، وہ اپنے وجود کو دیکھتا ہے، اور نہیں جانتا کہ میں کیا ہوں اور کس لیے اس دنیا میں آ گیا ہوں ان سوالات کا جواب متعین کرنے سے انسان کا ذہن قاصر ہے، مگر انسان بہر حال ان کو معلوم کرنا چاہتا ہے، یہ سوالات معلوم کرنا چاہتا ہے، یہ سوالات خواہ لفظوں کی شکل میں متعین ہو کر ہر شخص کی زبان پر نہ آئیں مگر وہ انسان کی روح کو بے چین رکھتے ہیں، اور کبھی کبھی اس شدت سے ابھرتے ہیں کہ آدمی کو پاگل بنا دیتے ہیں۔ نگلس کو دنیا ایک ملحد انسان کی حیثیت سے جانتی ہے، مگر اس کا الحاد اس کے غلط ماحول کا ردعمل تھا جو بہت بعد کو اس کی زندگی میں ظاہر ہوا، اس کی ابتدائی زندگی مذہبی ماحول میں گزری، مگر جب وہ بڑا ہوا اور نظر میں گہرائی پیدا ہوئی تو رسمی مذہب سے بے اطمینانی پیدا ہوگئی، اپنے اس دور کا حال وہ ایک دوست کے خط میں اس طرح لکھتا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page