Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

”میں ہر روز دعا کرتا ہوں اور تمام دن یہی دعا کرتا رہتا ہوں کہ مجھ پر حقیقت آشکارا ہو جائے، جب سے میرے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں یہی دعا کرنا میرا مشغلہ ہے، میں تمہارے عقیدے کو قبول نہیں کرسکتا، میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور میرا دل آنسوؤں سے امڈ چلا آرہا ہے، میری آنکھیں رورہی ہیں، لیکن مجھے یہ احساس ہورہا ہے کہ میں راندۂ درگاہ نہیں ہوں، مجھے امید ہے کہ میں خدا تک پہونچ جاؤں گا، جس کے دیدار کا میں دل و جان سے متمنی ہوں، اور مجھے اپنی جان کی قسم! یہ میری جستجو اور عشق کیا ہے، یہ روح القدس کی جھلک ہے، اگر انجیل مقدس دس ہزار مرتبہ بھی اس کی تردید کرے تو میں نہیں مان سکتا۔“ (David Riazanov: Essays on the History of Marxism, p. 36, copied from "Max Eastman: Marx, Lenin and the Science of Revolution," p. 148, accessed from Google Book, 07.04.2020) یہ وہی حقیقت کی تلاش کا فطری جذبہ ہے جو نو جوانی انگلس میں ابھرا تھا، مگر اس کی تسکین نہ مل سکی اور مروجہ مسیحی مذہب سے غیر مطمئن ہو کر وہ معاشی اور سیاسی فلسفوں میں گم ہوگیا۔ اس طلب کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک خالق اور مالک کا شعور پیدائشی طور پر پیوست ہے، وہ اس کے لاشعور کا ایک لازمی جز ء ہے۔ ”خدا میرا خالق ہے، اور میں اس کا بندہ ہوں“ یہ ایک خاموش عہد ہے جو ہر شخص اول روز سے اپنے ساتھ لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔ ایک پیدا کرنے والے آقا و محسن کا تصور غیر محسوس طور پر اس کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے، اس کے بغیر وہ اپنے اندر عظیم خلا محسوس کرتا ہے، اس کی روح اندر سے زور کرتی ہے جس آقا کو اس نے نہیں دیکھا، اس کو وہ پالے، وہ اس سے لپٹ جائے اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page