جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی معرفت ملنا گویا اس جذبے کے صحیح مرجع کو پالینا ہے، اور جو لوگ خدا کو نہیں پاتے ان کے جذبات کسی دوسری مصنوعی چیز کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، ہر شخص اپنے اندر یہ خواہش رکھنے پر مجبور ہے کہ کوئی ہو جس کے آگے وہ اپنے بہترین جذبات کو نذر کر دے۔ 15 اگست 1947 ء کو جب ہندوستان کی سرکاری عمارتوں سے یونین جیک اتار کر ملک کا قومی جھنڈا لہرایا گیا تو یہ منظر دیکھ کر ان قوم پرستوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جو اپنے ملک کو آزاد دیکھنے کے لیے تڑپ رہے تھے، یہ آنسو دراصل آزادی کی دیوی کے ساتھ ان کے تعلق کا اظہار تھا— یہ اپنے معبود کو پالینے کی خوشی تھی، جس کے لیے انھوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ صرف کر دیا تھا، اسی طرح ایک لیڈر جب ’’قوم کے باپ‘‘ کی قبر پر جا کر پھول چڑھاتا ہے، اور اس کے آگے سر جھکا کر کھڑا ہو جاتا ہے، تو وہ ٹھیک اسی عمل کو دہراتا ہے جو ایک مذہبی آدمی اپنے معبود کے لیے رکوع اور سجدے کے نام سے کرتا ہے، ایک کمیونسٹ جب لینن کے مجسمے کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنی ہیٹ (hat) اُتارتا ہے، اور اس کے قدموں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے تو اس وقت وہ اپنے معبود کی خدمت میں اپنے عقیدت کے جذبات نذر کر رہا ہوتا ہے، اسی طرح ہر شخص مجبور ہے کہ کسی نہ کسی چیز کو اپنا معبود بنائے اور اپنے جذبات کی قربانی اس کے آگے پیش کرے۔ مگر خدا کے سوا جن صورتوں میں آدمی اپنا یہ نذرانہ پیش کرتا ہے وہ سب شرک کی صورتیں ہیں، اور قرآن کے الفاظ میں— ’’اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ‘‘ (31:13)۔ یعنی شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی اصل جگہ کے بجائے دوسری جگہ رکھ دینا مثلاً ڈبہ کے ڈھکن سے آپ بچے کی ٹوپی کا کام لینا چاہیں تو یہ ظلم ہوگا۔ گویا آدمی جب اپنے نفسیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے خدا کو چھوڑ کر کسی اور طرف لپکتا ہے، جب وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنی زندگی کا سہارا بناتا ہے تو وہ اپنے اصل مقام کو چھوڑ دیتا ہے، وہ ایک صحیح جذبے کا غلط استعمال کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader