Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ جذبہ چوں کہ ایک فطری جذبہ ہے، اس لیے ابتدا وہ ہمیشہ فطری شکل میں ابھرتا ہے، اس کا پہلارخ اپنے اصلی معبود کی طرف ہوتا ہے، مگر حالات اور ماحول کی خرابیاں اس کو غلط سمت میں موڑ دیتی ہیں، اور کچھ دنوں کے بعد جب آدمی ایک مخصوص زندگی سے مانوس ہو جاتا ہے تو اس میں اس کو لذت ملنے لگتی ہے، برٹرینڈ رسل اپنے بچپن میں ایک کٹر مذہبی آدمی تھا، وہ باقاعدہ عبادت کرتا تھا۔ اسی زمانے میں ایک روز اس کے دادا جان نے پوچھا ’’تمہاری پسندیدہ دعا کون سی ہے؟‘‘ چھوٹے رسل نے جواب دیا ’’میں زندگی سے تنگ آ گیا ہوں اور اپنے گناہوں کے بوجھ سے دبا ہوا ہوں۔‘‘ اس زمانے میں خدا برٹرینڈ رسل کا معبود تھا، لیکن جب رسل تیرہ برس کی عمر کو پہنچا تو اس کی عبادت چھوٹ گئی اور مذہبی روایات اور پرانی قدروں سے باغیانہ ماحول کے اندر رہنے کی وجہ سے خود اس کے اندر بھی ان چیزوں سے بغاوت کے رجحانات ابھرنے لگے، اور بالآخر برٹرینڈ رسل ایک ملحد انسان بن گیا، جس کی محبوب ترین چیزیں ریاضی اور فلسفہ تھی۔ 1959ء کا واقعہ ہے۔ بی، بی، سی لندن پر ایک بات چیت پروگرام میں فری مین نے رسل سے پوچھا۔ ’’کیا آپ نے مجموعی طور پر ریاضی اور فلسفے کے شوق کو مذہبی جذبات کا نعم البدل پایا ہے؟‘‘۔ رسل نے جواب دیا ’’جی ہاں، یقیناً میں چالیس برس کی عمر تک اس اطمینان سے ہم کنار ہو گیا تھا، جس کے متعلق افلاطون نے کہا ہے کہ آپ ریاضی سے حاصل کر سکتے ہیں ــــ یہ ایک ابدی دنیا تھی، وقت کی قید سے آزاد دنیا، مجھے یہاں مذہب سے ملتا جلتا ایک سکون نصیب ہو گیا۔‘‘ برطانیہ کے اس عظیم مفکر نے خدا کو اپنا معبود بنانے سے انکار کر دیا۔ مگر معبود کی ضرورت سے پھر بھی وہ بے نیاز نہ رہ سکا، اور جس مقام پر پہلے اس نے خدا کو بٹھا رکھا تھا، وہاں ریاضی اور فلسفے کو بٹھانا پڑا، اور یہی نہیں بلکہ ریاضی اور فلسفے کے لیے وہ صفات بھی تسلیم کرنی پڑیں جو صرف خدا ہی کی صفت ہو سکتی ہے۔ ابدیت اور وقت کی قید سے آزادی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page