Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

کیوں کہ اس کے بغیر اسے مذہب سے ملتا جلتا وہ سکون نہیں مل سکتا تھا، جو دراصل اس کی فطرت تلاش کر رہی تھی۔ ’’نہرور کوع میں‘‘۔ اگر یہ خبر کسی دن اخبار میں چھپے تو کسی کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ واقعہ ہے لیکن ہندوستان ٹائمس (دہلی) کی 13 اکتوبر 1963 ء کی اشاعت کے آخری صفحہ پر شائع شدہ تصویر اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ اس تصویر میں نظر آرہا ہے کہ ہندوستان کے سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو دوزانو ہو کر اور ہاتھ جوڑ کر رکوع کی مانند جھکے ہوئے ہیں۔ یہ گاندھی جینتی کے موقع کی تصویر ہے، اور دہلی کے نہرو راج گھاٹ میں گاندھی سماھی پر قوم کے باپو کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ اس قسم کے واقعات ہر سال اور ہر روز ساری دنیا میں ہوتے ہیں، لاکھوں ایسے لوگ جو خدا کو نہیں مانتے اور پرستش کو بے معنی چیز سمجھتے ہیں ۔ وہ اپنے خود ساختہ بتوں کے آگے جھک کر اپنے اندرونی جذبہ عبودیت کو تسکین دیتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ’’اللہ‘‘ انسان کی ایک فطری ضرورت ہے، اور یہی اس کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقی ہے، انسان اگر خدا کے سامنے نہ جھکے تو اس کو دوسرے الہوں کے سامنے جھکنا پڑے گا، کیوں کہ ’’اللہ‘‘ کے بغیر اس کی فطرت اپنے خلا کو پر نہیں کر سکتی۔ مگر بات صرف اتنی نہیں ہے، اس سے آگے بڑھ کر میں کہتا کہ جو لوگ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا معبود بناتے ہیں، وہ ٹھیک اسی طرح حقیقی سکون سے محروم رہتے ہیں، جیسے کوئی بے بچہ ماں پلاسٹک کی گڑیا خرید کر بغل میں دبائے اور اس سے تسکین حاصل کرنا چاہے، ایک ملحد انسان خواہ وہ کتنا ہی کامیاب کیوں نہ ہو، اس کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں، جب وہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ حقیقت اس کے سوا کچھ اور ہے جو میں نے پائی ہے۔ آزادی سے بارہ سال پہلے 1935 ء میں جب پنڈت جواہر لال نہرو نے جیل خانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page