جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اپنی آپ بیتی مکمل کی تو اس کے آخر میں انھوں نے لکھا: ”میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہو گا، اس میں کیا ہو گا، اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کر سکتا، کتاب زندگی کے اگلے ورق سر بمہر ہیں۔“ Nehru—An Autobiography, London, 1953, p. 597 پنڈت نہرو کی زندگی کے اگلے اوراق کھلے تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیر اعظم ہیں، اور دنیا کی آبادی کے چھٹے حصہ پر بلا شرکت حکومت کر رہے ہیں، مگر اس کامیابی نے نہرو کو مطمئن نہیں کیا اور اپنے انتہائی عروج کے زمانے میں بھی وہ محسوس کرتے رہے کہ کتاب زندگی کے مزید کچھ اوراق ہیں جو ابھی تک بند ہیں، اور وہی سوال آخر عمر میں بھی ان کے ذہن میں گھومتا رہا، جس کو لے کر ہر انسان پہلے روز پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ جنوری 1964ء کے پہلے ہفتہ میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنس نئی دہلی میں ہوئی، جس میں ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے بارہ سو ڈیلی گیٹ شریک ہوئے، پنڈت نہرو نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا: ”میں ایک سیاست داں ہوں اور مجھے سوچنے کے لیے وقت کم ملتا ہے پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے، کس لیے ہے، ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں، میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر کو بناتی ہیں۔“ National Herald, Jan 6, 1964 یہ ایک عدم اطمینان ہے، جوان تمام لوگوں کی روحوں پر گہرے کہرے کی طرح چھایا رہتا ہے، جنھوں نے خدا کو اپنا الہٰ اور معبود بنانے سے انکار کیا۔ دنیا کی مصروفیتوں اور وقتی دلچسپیوں میں عارضی طور پر بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اطمینان سے ہم کنار ہیں، مگر جہاں یہ مصنوعی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader