مخالفینِ مذہب کا مقدمہ
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
concerns us is that of gods. In one period of our western civilization the gods were necessary fictions, useful hypotheses by which to live. Man in the Modern World, 1950, Britain, p. 134 اشتراکى فلسفہ کے نزدیک بھی مذہب ایک تاریخی فریب ہے۔ البتہ اشتراکیت چوں کہ تاریخ کا مطالعہ تمام تر اقتصادیات کی روشنی میں کرتی ہے۔ اس لیے اس نے تمام تاریخی اسباب کو سمیٹ کر صرف اقتصادی اسباب میں مرکوز کر دیا۔ اس کے نزدیک مذہب کو جن تاریخی حالات نے پیدا کیا وہ دور قدیم کا جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام تھا۔ اب چوں کہ یہ فرسودہ نظام اپنی موت مر رہا ہے۔ اس لیے مذہب کو بھی اسی کے ساتھ ختم سمجھنا چاہیے۔ انگلس کے الفاظ میں’’تمام اخلاقی نظریے، اپنے آخری تجزیے میں، وقت کے اقتصادی حالات کی پیداوار ہیں۔‘‘ Antzs Duhring, Moscow, 1954, p. 131 انسانی تاریخ طبقاتی لڑائیوں کی تاریخ ہے جس میں سر بر آوردہ طبقہ پسماندہ طبقہ کا استحصال کرتا رہا ہے، اور مذہب واقلاق صرف وضع کیے گئے تا کہ سر بر آوردہ طبقہ کے مفادات کو محفوظ کرنے کے لیے نظریاتی بنیاد حاصل ہو سکے۔ ’’قانون، اخلاق، مذہب ، سب بورژوا کی فریب کاری ہے، جس کی آڑ میں اس کے بہت سے مفادات چمپے ہوئے ہیں‘‘ (کمیونسٹ مینی فسٹو)۔ نوجوان کمیونسٹ لیگ کی تیسری کل روس کانگریس (اکتوبر 1920) میں لینن نے کہا تھا: ’’یقیناً ہم خدا کو نہیں مانتے۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ ارباب کلیسا، زمیندار اور بورژوا طبقہ جو خدا کے حوالے سے کلام کرتے ہیں وہ محض استحصال کرنے والے کی حیثیت سے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے تمام اخلاقی ضابطوں کا انکار کرتے ہیں، جو انسانوں سے ماورا کسی مافوق طاقت سے اخذ کیے گئے ہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader