Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

ماحول ختم ہوا، حقیقت اندر سے زور کرنا شروع کر دیتی ہے، اور انھیں یاد دلاتی ہے کہ وہ سچے اطمینان سے محروم ہیں۔ خدا سے محروم قلوب کا یہ حال صرف ایک دنیوی بے اطمینانی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے بہت زیادہ اہم ہے۔ یہ چند روزہ مسئلہ نہیں بلکہ دائمی مسئلہ ہے۔ یہ دراصل اس تاریک اور بے سہارا زندگی کے آثار ہیں، جس کے کنارے وہ کھڑا ہوا ہے۔ یہ اس ہولناک زندگی کی ابتدائی گھٹن ہے، جس میں ایسے ہر آدمی کو موت کے بعد داخل ہونا ہے، اور اس خطرے کا ایک پیشگی المارم ہے، جس میں اس کی روح کو بالآخر مبتلا ہونا ہے۔ مختصر یہ کہ وہ اس جہنم کا دھواں ہے جوہر کا فرو مشرک کے لیے تیار کی گئی ہے گھر میں آگ لگ جائے تو اس کا دھواں سوتے ہوئے آدمی کے دماغ میں گھس کر اس کو آنے والے خطرے سے باخبر کرتا ہے۔ اگر وہ دھوئیں کی گھٹن سے جگ گیا تو اپنے آپ کو بچا لے جائے گا، لیکن جب شعلے قریب آ جائیں تو وہ انتباہ کا وقت نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہلاکت کا فیصلہ ہوتا ہے، جو اس کو چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمھاری بے حسی اور بے خبری نے تمھارے لیے مقدر کر دیا ہے کہ تم آگ میں جلو۔ کیا کوئی ہے جو وقت سے پہلے بیدار ہو جائے ، کیوں کہ بیداری وہی ہے ، جو وقت سے پہلے ہو، وقت پر بیدار ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میک گل یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل بریچر (Michael Brecher) نے جواہر لال نہرو کی سیاسی سوانح حیات لکھی ہے۔ اس سلسلے میں مصنف نے پنڈت نہرو سے ملاقات بھی کی تھی۔ نئی دہلی کی ایک ملاقات میں 13 جون 1956ء کو انھوں نے پنڈت نہرو سے سوال کیا: " آپ مختصر طور پر بتائیں کہ آپ کے نزدیک اچھے سماج کے لیے کیا چیزیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page