جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
ضروری ہیں، اور آپ کا بنیادی فلسفہ زندگی کیا ہے؟“ ہندوستان کے سابق وزیراعظم نے جواب دیا: ”میں کچھ معیاروں کا قائل ہوں، آپ ان کو اخلاقی معیار(moral standards) کہہ لیجیے، یہ معیار ہر فرد اور سماجی گروہ کے لیے ضروری ہیں، اگر وہ باقی نہ رہیں تو تمام مادی ترقی کے باوجود آپ کسی مفید نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے، ان معیاروں کو کیسے قائم رکھا جائے، یہ مجھے نہیں معلوم۔ ایک تو مذہبی نقطہ نظر ہے، لیکن یہ اپنے تمام رسوم اور طریقوں کے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا ہے۔ میں اخلاقی اور روحانی قدروں کو مذہب سے علیحدہ رکھ کر بہت اہمیت دیتا ہوں، لیکن میں نہیں جانتا کہ ان کو ماڈرن زندگی میں کس طرح قائم رکھا جاسکتا ہے، یہ ایک مسئلہ ہے۔“ Nehru : A Political Biography, London, 1959, p. 607-8 یہ سوال وجواب جدید انسان کے اس دوسرے خلا کو بتاتا ہے، جس میں آج وہ شدت سے گرفتار ہے، افراد کو دیانت واخلاق کے ایک خاص معیار پر باقی رکھنا ہر سماجی گروہ کی ایک ناگزیر ضرورت ہے اس کے بغیر تمدن کا نظام صحیح طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، مگر خدا کو چھوڑنے کے بعد انسان کو نہیں معلوم کہ وہ اس ضرورت کو کیسے پورا کرے سیکڑوں سال کے تجربے کے بعد وہ ابھی بدستور تلاش کی منزل میں ہے، پبلک اور حکام کے درمیان عمدہ تعلقات پیدا کرنے کے لیے خوش اخلاقی کا ہفتہ (Courtesy Week) منایا جاتا ہے، مگر اس کے بعد بھی جب سرکاری ملازموں کی افسرانہ ذہنیت ختم نہیں ہوتی تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقصد اس طرح حاصل نہیں ہوتا ہے کہ ہم ڈکشنری سے ”اخلاق“ کا لفظ نکال کر لوگوں کے سامنے رکھ دیں۔ بے ٹکٹ مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکو کرنے کے لیے تمام اسٹیشنوں پر بڑے بڑے پوسٹر لگائے جاتے ہیں ــــ بے ٹکٹ سفر کرنا سماجی گناہ ہے: Ticktless travel is a social evil

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader