جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر جب اس کے باوجود بے ٹکٹ سفر ختم نہیں ہوتا تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ’’سماجی گناہ‘‘ کے لفظ کا حوالہ وہ احساس پیدا نہیں کر سکتا، جو نظم و ضبط کی تعمیل کے لیے محرک بن سکے۔ پریس کے ذریعہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ جرم کا انجام اچھا نہیں ہوتا (crime does not pay)۔ مگر جرائم کی بڑھتی ہوئی رفتار بتاتی ہے کہ دنیوی نقصان کے اندیشہ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ آدمی کو جرم سے باز رکھے، تمام دفتروں کی دیواریں مختلف زبانوں کے ان الفاظ سے رنگین کر دی جاتی ہیں " رشوت لینا اور رشوت دینا پاپ ہے"۔ مگر جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ ہر محکمے میں عین انھیں الفاظ کے نیچے رشوت کا کاروبار پورے زور شور سے جاری ہے تو وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اس قسم کے سرکاری پروپیگنڈہ رشوت کو رو کنے میں کسی درجہ میں بھی مفید نہیں ہیں، ریل کے تمام ڈبوں میں اس مضمون کے کتبے لگائے جاتے ہیں " ریلوے قوم کی ملکیت ہے، اس کا نقصان پوری قوم کا نقصان ہے"۔ مگر اس کے باوجود جب لوگ کھڑکیوں کے شیشے توڑ ڈالتے ہیں، اور بجلی کے بلب غائب کر دیتے ہیں، تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ " قوم " کے مفاد میں اتنا زور نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ایک شخص اپنے ذاتی مفاد کو قربان کر دے۔" اجتماعی ذرائع کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا ملک و قوم سے غداری ہے"۔ ایک طرف لیڈروں اور حکمرانوں کی زبان سے یہ اعلان ہورہا ہے، دوسری طرف بڑے بڑے قومی منصوبے اس لیے ناکام ہورہے ہیں کہ سرمایے کا بڑا حصہ اصل منصوبہ پر لگنے کے بجائے متعلقہ کارکنوں کی تحویل میں چلا جاتا ہے، اسی طرح ساری قومی زندگی کی انتہائی کوشش کے باوجود ان معیاروں سے محروم ہوگئی ہے جوقومی تعمیر کے لیے ضروری ہیں، اور ان معیاروں کو پیدا کرنے کے لیے جتنے ذرائع استعمال کیے گئے، وہ سب کے سب قطعی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ یہ علامتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بے خدا تہذیب نے انسانیت کی گاڑی کو دلدل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader