جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
میں لا کر ڈال دیا ہے، اس کو اس پٹڑی سے محروم کر دیا ہے، جس کے اوپر چل کر وہ اپنا سفر بحسن وخوبی طے کر سکتی ہے، زندگی کی کشتی بے لنگر اور بغیر بادبان ہو گئی ہے، اس کا واحد حل یہ ہے کہ انسان خدا کی طرف پلٹے، وہ زندگی کے لیے مذہب کی اہمیت کو تسلیم کرے۔ یہی وہ تنہا بنیاد ہے، جس پر زندگی کی بہتر تعمیر ممکن ہے، اس کے سوا کسی بھی دوسری بنیاد پر زندگی کی تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ ہندوستان میں امریکا کے سابق سفیر مسٹر چسٹر باولز (Chester Bowles) لکھتے ہیں: ”زیر ترقی ممالک صنعتی ترقی حاصل کرنے کے سلسلے میں دو طرح کے مسائل سے دو چار ہیں اور دونوں نہایت پیچیدہ ہیں، ایک یہ سرمایہ خام اشیا اور فنی مہارت جو انھیں حاصل ہیں، ان کو کس طرح زیادہ بہتر طور پر استعمال کریں۔ دوسرا پیچیدہ مسئلہ وہ ہے جس کا تعلق عوام اور ادارہ سے ہے، صنعت کو تیزی سے آگے بڑھانے کے ساتھ ہمیں یہ تیقن بھی حاصل کرنا ہے کہ وہ جتنی خرابیوں کو دور کرے اس سے زیادہ خرابیاں پیدا نہ کردے، مہاتما گاندھی کے الفاظ میں ”سائنسی معلومات اور در یافتیں محض حرص کو بڑھانے کا اوزار ثابت ہو سکتی ہیں، اصل قابل لحاظ چیز انسان ہے۔“ The Making of a Society, Delhi, 1963. p 68-69 باولز کے الفاظ میں عوام گویا وہ ماحول ہیں، جس کے اندر ترقیاتی پروگرام جاری ہوتے ہیں۔ ترقی کے ضروری سامان ــ سرمایہ اور فنی مہارت وغیرہ تمدنی اور سیاسی خلا میں کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ (ص 31) یہ خلا کیسے پر ہو اور وہ ماحول کیسے بنے جس میں عوام اور سرکاری کارکن دیانتداری اور اتحاد کے ساتھ ترقیاتی کاموں میں اپنے آپ کو صرف کریں، اس سوال کا کوئی جواب جدید مفکرین کے پاس نہیں ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ بے خدا تہذیب کے ماحول میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader