جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ہوسکتا، بے خدا تہذیب کے اندر ہر ترقیاتی اسکیم ایک زبردست تضاد کا شکار ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ اس کا شخصی نظریہ اس کے سماجی تصور سے ٹکراتا ہے، اس کا اجتماعی پروگرام یہ ہے کہ ایک پرامن اور خوشحال سماج کی تعمیر کی جائے، مگر اس کے ساتھ اس کے مفکرین جب یہ کہتے ہیں_’’انسان کا مقصد مادی خوشی حاصل کرنا ہے‘‘ تو وہ اپنی پہلی بات کی تردید کر دیتے ہیں، وہ پورے سماج کو جیسا دیکھنا چاہتے ہیں، سماج کے افراد کو اس کے خلاف بنارہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی کسی اسکیم کو اب تک اپنے مقصد میں حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، تمام مادی فلسفے زندگی کا بہتر نظام بنانے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ مادی خوشی کو زندگی کا مقصد بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی خواہش پوری کرنا چاہے، لیکن اس محدود دنیا میں یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر شخص دوسرے کو متاثر کیے بغیر یکساں طور پر اپنی اپنی خواہش پوری کر سکے، نتیجہ یہ ہے کہ ایک آدمی جب اپنی تمام خواہشیں پوری کرنا چاہتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے مصیبت بن جاتا ہے، فرد کی خوشی، سماج کی خوشی کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ ایک محدود آمدنی والا شخص جب دیکھتا ہے کہ اس کی اپنی آمدنی اس کی خواہشوں کی تکمیل کے لیے کافی نہیں ہورہی ہے تو وہ حق ماری، بددیانتی، چوری، رشوت اور غبن کے ذریعہ اپنی آمدنی کی کمی کو پورا کرتا ہے، مگر اس طرح جب وہ اپنی خواہش پوری کر لیتا ہے تو وہ سماج کو اسی محتاجی میں مبتلا کر دیتا ہے، جس میں وہ خود پہلے مبتلا تھا۔ جدید دنیا ایک عجیب و غریب قسم کی نہایت خطرناک مصیبت میں مبتلا ہے، جس کا تاریخ میں کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا۔ یہ جرم کم سنی (juvenile delinquency) ہے، جو جدید زندگی کا ایک لازمہ بن چکا ہے۔ یہ کمسن مجرمین کہاں سے پیدا ہوتے ہیں، ان کی پیدائش کا سرچشمہ وہی مادی خوشی کو پورا کرنا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑا کچھ دنوں ساتھ رہنے کے بعد ایک دوسرے سے اکتا جاتے ہیں، اور اپنی جنسی خوشی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ نیا جسم اور نیا چہرہ تلاش کریں۔ اس وقت وہ طلاق لے کر ایک دوسرے سے علیحدہ ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader