Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتے ہیں۔ اس علیحدگی کی قیمت سماج کو ایسے بچوں کی شکل میں ملتی ہے، جو اپنے ماں باپ کی موجودگی میں ”یتیم“ ہو گئے ہیں، یہ بچے والدین سے چھوٹنے کے بعد ماحول کے اندر اپنی کوئی جگہ نہیں پاتے، ایک طرف وہ بالکل آزاد ہوتے ہیں، اور دوسری طرف ماحول سے بیزار، یہ صورت حال بہت جلد انھیں جرائم تک پہنچادیتی ہے، سرالفرڈ ڈیننگ (Alfred Denning, 1899-1999) نے بہت صحیح لکھا ہے کہ ”اکثر کمسن اور نابالغ مجرم میں اجڑے ہوئے گھرانوں (broken homes) سے نمودار ہوتے ہیں۔“ The Changing Law, p.111 اسی طرح موجودہ زندگی میں تمام خرابیوں کی جڑ صرف یہ واقعہ ہے کہ جدید دنیا کا انفرادی فلسفہ اور اس کے اجتماعی مقاصد ایک دوسرے سے متضاد ہیں، وہ تمام واردات جن کو ہم ناپسند کرتے ہیں، اور ان کو جرم، برائی اور بدعنوانی کہتے ہیں، وہ دراصل کسی شخص یا پارٹی یا قوم کی اپنی مادی خوشی حاصل کرنے کی کوشش ہی ہوتی ہے، اور اسی کوشش کا سماجی انجام قتل، بدکاری، لڑائی، اغوا، جعل سازی، ڈاکو، لوٹ کھسوٹ، جنگ اور اس طرح کی دوسری بے شمار صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تضاد بتاتا ہے کہ زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا کہ دنیا کی مادی چیزوں کے بجائے آخرت میں خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کو مقصد بنایا جائے، یہی وہ مقصد ہے، جو فرد اور سماج کو باہمی تضاد سے بچا کر موافق ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ نظریۂ آخرت کی یہ خصوصیت جہاں یہ ثابت کرتی ہے کہ وہی وہ واحد بنیاد ہے، جو ترقیاتی اسکیموں کو صحیح طور پر کامیاب کر سکتی ہے، اسی کے ساتھ وہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وہی حقیقی مقصد ہے، کیوں کہ غیر حقیقی چیز زندگی کے لیے اتنی اہم اور اس سے اتنی ہم آہنگ نہیں ہو سکتی۔ موجودہ زمانے میں میڈیکل سائنس میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے۔ اب یہ خیال کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page