جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
جانے لگا ہے کہ سائنس موت اور بڑھاپے کے سوا ہر جسمانی تکلیف پر قابو پاسکتی ہے، مگر اسی کے ساتھ بیماری کی اقسام میں نہایت تیزی سے ایک نئے نام کا اضافہ ہورہا ہے— اعصابی بیماری (nervous diseases)۔ یہ ”اعصابی بیماریاں‘‘ کیا ہیں؟ یہ دراصل اسی تضاد کا ایک عملی ظہور ہے، جس میں جدید سوسائٹی شدت سے مبتلا ہے۔ مادی تہذیب نے انسان کے اس حصے کو جو نمکيات، معدنیات اور گیسوں کا مرکب ہے، ترقی دینے کی کافی کوشش کی۔ مگر انسان کا وہ حصہ جو شعور، خواہش اور ارادہ پر مشتمل ہے، اس کی غذا اس کو فراہم نہ کرسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پہلا حصہ تو بظاہر فربہ اور خوش منظر دکھائی دینے لگا۔ مگر دوسرا حصہ جو اصل انسان ہے، وہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوگیا۔ موجودہ امریکا کے بارے میں وہاں کے ذمہ دار ذرائع کا اندازہ ہے کہ وہاں کے بڑے شہروں میں 80 فیصد مریض ایسے ہیں جن کی بیماری بنیادی طور پر نفسیاتی سبب (psychic causation) کے تحت واقع ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات نے اس سلسلے میں جو تحقیقات کی ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ ان بیماریوں کے پیدا ہونے کے چند اہم ترین وجوہ یہ ہیں— جرم، ناراضگی، اندیشہ، پریشانی، مایوسی، تذبذب، شبہ، حسد، خودغرضی اور اکتاہٹ (boredom)، وغیرہ۔ یہ سارے عوارض، اگر گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو بے خدا زندگی کا نتیجہ ہیں۔ خدا پر ایمان آدمی کے اندر وہ اعتماد پیدا کرتا ہے، جو مشکلات میں اس کے لیے سہارا بن سکے، وہ ایسا برتر مقصد اس کے سامنے رکھ دیتا ہے، جس کے بعد وہ چھوٹے چھوٹے مسائل کو نظر انداز کر کے اس کی طرف بڑھ سکے، وہ اس کو ایسا محرک دیتا ہے، جو سارے اخلاقی محاسن کی واحد بنیاد ہے، وہ عقیدے کی وہ طاقت دیتا ہے، جس کے متعلق ڈاکٹر سر ولیم اوسلر (Sir William Osler, 1849-1919) نے کہا ہے: ”وہ ایک عظیم قوت محرکہ (great moving force) ہے، جس کو نہ کسی ترازو میں تولا جاسکتا ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader