Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

اور نہ لیبارٹری میں اس کی آزمائش کی جاسکتی ہے۔‘ ‘یہی عقیدے کی طاقت دراصل نفسیاتی صحت کا خزانہ ہے، جو نفسیات اس سر چشمہ سے محروم ہو وہ ’’بیماریوں‘‘ کے سوا کسی اور انجام سے دوچار نہیں ہوسکتی ، یہ انسان کی بدقسمتی ہے کہ وقت کے ماہرین نے نفسیاتی یا اعصابی عوارض کا کھوج لگانے میں تو کمال درجے کی ذہانت کا ثبوت دیا ہے، مگر ان نو دریافت بیماریوں کا صحیح علاج تجویز کرنے میں وہ سخت ناکام ہوئے ہیں، ایک عیسائی عالم کے الفاظ میں ’’نفسیاتی علاج کے ماہرین (Psychiatrists) صرف اس تالے کی باریک تفصیلات بتانے میں اپنی کوشش صرف کر رہے ہیں، جو ہمارے اوپر صحت کے دروازے بند کرنے والا ہے۔‘‘ جدید معاشرہ بیک وقت دو متضاد عمل کر رہا ہے، ایک طرف وہ مادی سازوسامان فراہم کرنے میں پوری قوت صرف کر رہا ہے، دوسری طرف مذہب کو ترک کرکے وہ حالات پیدا کر رہا ہے، جس سے زندگی طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہو جائے، وہ ایک طرف دوا کھلا رہا ہے، اور دوسری جانب زہر کا انجکشن دے رہا ہے، یہاں میں ایک امریکی ڈاکٹر ارنسٹ ایڈولف (Paul Ernest Adolph) کا ایک اقتباس نقل کروں گا، جو اس کے سلسلے میں ایک دلچسپ شہادت فراہم کرتا ہے: ”جن دنوں میں میڈیکل اسکول میں زیر تعلیم تھا، میں ان تبدیلیوں سے آگاہ ہوا جو زخم ہوجانے کی صورت میں جسم کے اخلاط (body tissues) میں رونما ہوتی ہیں، خورد بین کے ذریعہ نسیجوں کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ نسیجوں پر جو مختلف موافق اثرات کے واقع ہونے سے زخم کا اطمینان بخش اندمال ہو جاتا ہے، اس کے بعد جب تعلیم ختم کر کے میں عملاً ڈاکٹری کے پیشے میں داخل ہوا تو مجھے اپنے اوپر بڑا اعتماد تھا کہ میں زخم اور اس کے ٹھیک کے طریقوں کو اس حد تک جانتا ہوں کہ میں یقینی طور پر موافق نتیجہ پیدا کر سکتا ہوں جب کہ میں اس کے ضروری طبی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page