Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

وسائل مہیا کر کے اس کو استعمال میں لاؤں ، لیکن جلد ہی میری اس خود اعتمادی کو صدمہ پہنچا، مجھے محسوس ہوا کہ میں نے اپنی میڈیکل سائنس میں ایک ایسے عنصر کو نظر انداز کر دیا تھا، جو سب سے زیادہ اہم ہے۔ یعنی خدا۔ اسپتال میں جن مریضوں کی نگرانی میرے سپرد کی گئی ان میں ایک سٹّر (70) سال کی بوڑھی عورت تھی ، جس کا کولھا زخمی ہو گیا تھا، ایکس رے تصاویر کے معائنہ سے معلوم ہوا کہ اس کی نسیجیں (tissues) بڑی تیزی سے ٹھیک ہو رہی ہیں، میں نے اس سرعت کے ساتھ شفایابی پر اس کو مبارکباد پیش کی، انچارج سرجن نے مجھے ہدایت کی کہ اس خاتون کو 24 گھنٹے میں رخصت کر دیا جائے ، کیوں کہ اب وہ کسی سہارے کے بغیر چلنے پھرنے کے قابل ہو گئی ہے۔ اتوار کا دن تھا، اس کی بیٹی ہفتہ وار ملاقات کے معمول کے مطابق اسے دیکھنے آئی، میں نے اس سے کہا کہ چوں کہ اس کی ماں اب صحت یاب ہے، اس لیے وہ کل آ کر اسے اسپتال سے گھر لے جائے ، لڑکی اس کے جواب میں کچھ نہیں بولی اور سیدھی اپنی ماں کے پاس چلی گئی، اس نے اپنی ماں کو بتایا کہ اس نے اپنے شوہر سے اس کے بارے میں مشورہ کیا ہے، اور یہ طے ہوا ہے کہ وہ اس کو اپنے گھر نہ لے جا سکیں گے، اس لیے زیادہ بہتر انتظام کی صورت یہ ہے کہ اس کو کسی اولڈ ایج ہوم (Old (People's Home میں پہنچادیا جائے۔ چند گھنٹوں کے بعد جب میں اس بڑھیا کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ بڑی تیزی کے ساتھ اس پر جسمانی انحطاط طاری ہو رہا ہے ، چوبیس گھنٹے کے اندر ہی وہ مر گئی ۔ کولھے کے زخم کی وجہ سے نہیں بلکہ دل کے صدمے کی وجہ سے : Not of her broken hip, but of a broken heart ہم نے ہر قسم کی ممکن طبی امداد اسے پہنچائی ، مگر وہ جانبر نہ ہوسکی، اس کے کولھے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page