Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹوٹی ہوئی ہڈی تو بالکل درست ہو چکی تھی، مگر اس کے ٹوٹے ہوئے دل کا کوئی علاج نہ تھا، وٹامن، معدنیات اور ٹوٹی ہوئی ہڈی کو اپنی جگہ لانے کے لیے سارے ذرائع استعمال کرنے کے باوجود وہ صحت یاب نہیں ہوئی، یقینی طور پر اس کی ہڈیاں جڑ چکی تھیں، اور وہ ایک مضبوط کو کھلے کی مالک ہو چکی تھی، مگر وہ بچ نہ سکی، کیوں، اس لیے کہ اس کی صحت کے لیے اہم ترین عنصر جو در کا تھا، وہ وٹامن نہیں تھا، نہ معدنیات تھے اور نہ ہڈیوں کا جڑنا تھا، یہ صرف امنگ (hope) تھی، اور جب زندگی کی امنگ ختم ہو گئی تو صحت بھی رخصت ہو گئی۔ اس واقعہ نے مجھ پر گہرا اثر کیا، کیوں کہ اس کے ساتھ مجھے شدید احساس تھا کہ اس بوڑھی خاتون کے ساتھ ہر گز یہ حادثہ پیش نہ آتا، اگر یہ خاتون خدائی امید (God of Hope) سے آشنا ہوتی، جس پر ایک عیسائی کی حیثیت سے میں اعتقاد رکھتا ہوں۔‘‘ The Evidence of God, p.212-14 اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید ترقی یافتہ دنیا کس قسم کے تضاد سے دوچار ہے، وہ ایک طرف سارے علوم کو اس نہج پر ترقی دے رہی ہے، جس سے خدا کا وجود حرف غلط ثابت ہو جائے، تعلیم و تربیت کے پورے نظام کو اس ڈھنگ سے چلایا جا رہا ہے، جس سے خدا اور مذہب کے احساسات دلوں سے رخصت ہو جائیں، اس طرح روح اصل انسان کو موت کے خطرے میں مبتلا کر کے اس کے جسم مادی وجود کو ترقی دینے کی سعی کی جا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عین اس وقت جبکہ بہترین ماہرین اس کی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے میں کامیابی حاصل کر چکے ہوتے ہیں، عقیدے کی اندرونی طاقت کی محرومی کی وجہ سے اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے، اور بظاہر جسمانی صحت کے باوجود وہ موت کے آغوش میں چلا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page