Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وہ تضاد ہے، جس نے آج پوری انسانیت کو تباہ کر رکھا ہے، خوش پوش جسم حقیقی سکون سے محروم ہیں، عالی شان عمارتیں اجڑے ہوئے دلوں کا مسکن ہیں، جگمگاتے ہوئے شہر جرائم اور مصائب کا مرکز ہیں، شان دار حکومتیں اندرونی سازش اور بے اعتمادی کا شکار ہیں، بڑے بڑے منصوبے بے کردار کی خامی کی وجہ سے ناکام ہو رہے ہیں ۔ غرض مادی ترقیات کے باوجود انسان کی حقیقی زندگی بالکل اجڑ گئی ہے، یعنی روحانی زندگی، اور یہ سب نتیجہ ہے صرف ایک چیز کا انسان نے اپنے خدا کو چھوڑ دیا، اس نے اس سرچشمہ سے اپنے آپ کو محروم کر لیا، جو اس کے خالق و مالک نے اس کے لیے مہیا کیا تھا۔ انسانی فطرت کا تقاضا ایک روحانی چیز۔ پھر ایک مادی چیز ایک روحانی سوال کا جواب کس طرح بن سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب صرف خداوند تعالیٰ ہے۔ مخلوق اپنے خالق کی تلاش میں ہے، اور خالق کو پانے کے بعد ہی مخلوق کو سکون حاصل ہو سکتا ہے: اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (13:28)۔ نفسیاتی امراض کی نوعیت جو اوپر بیان کی گئی ہے، وہ اتنی واضح حقیقت ہے کہ خود اس فن کے علماء نے اس کا اعتراف کیا ہے، نفسیات کے مشہور عالم پروفیسر ینگ (Carl Gustav Jung 1975-1961) نے اپنی زندگی بھر کا تجربہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے : پچھلے تیس برسوں میں روی زمین کے تمام متمدن ممالک کے لوگوں نے مجھ سے (اپنے نفسیاتی امراض کے سلسلے میں) مشورہ حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا ہے، میرے مریضوں میں زندگی کے نصف آخر میں پہو پہنچنے والے تمام لوگ ۔ جو کہ 35 سال کے بعد کہی جاسکتی ہے۔ کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا، جس کا مسئلہ اپنے آخری تجزیے میں زندگی کا مذہبی نقطہ نظر پانے کے سوا کچھ اور ہو، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان میں سے ہر شخص کی بیماری یہ تھی کہ اس نے وہ چیز کھودی تھی جو کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page