جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ مذاہب ہر دور میں اپنے پیروؤں کو دیتے رہے ہیں، اور ان مریضوں میں سے کوئی بھی حقیقۃً اس وقت تک شفا یاب نہ ہوسکا، جب تک اس نے اپنا مذہب تصور دوبارہ نہیں پالیا۔‘‘ Quoted by C.A.Coulson, Science and Christian Belief, p.110 یہ الفاظ اگرچہ سمجھنے والے کے لیے بجائے خود بالکل واضح ہیں، تاہم اگر میں نیو یارک اکیڈمی آف سائنس کے صدر اے، کریسی ماریسن کے الفاظ نقل کر دوں تو بات بالکل مکمل ہو جائے گی : ”ادب و احترام، فیاضی، کردار کی بلندی، اخلاق، اعلیٰ خیالات اور وہ سب کچھ جس کو خدائی صفات (Divine Attributes) کہا جا سکتا ہے، وہ کبھی الحاد سے پیدا نہیں ہو سکتیں جو کہ دراصل خود بینی کی عجیب و غریب قسم ہے، جس میں آدمی خود اپنے آپ کو خدا کے مقام پر بٹھا لیتا ہے، عقیدے اور یقین کے بغیر تہذیب تباہ ہو جائے گی، نظم، بے نظمی میں تبدیل ہو جائے گی، ضبطِ نفس اور اپنے آپ پر کنٹرول کا خاتمہ ہو جائے گا اور برائی ہر طرف پھیل جائے گی، ضرورت ہے کہ ہم خدا پر اپنے یقین کو دوبارہ مضبوط کریں۔‘‘ Man Does not Stand Alone, p.123

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader