تبصرہ
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
تبصرہ پچھلے صفحات میں ہم نے ان مخالف مذہب استدلالات کا ذکر کیا ہے، جو اس بات کے ثبوت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں کہ دورِ جدید نے مذہب کے لیے کوئی علمی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ جدید طریقِ فکر نے مذہب کو کسی بھی درجہ میں کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ اگلے ابواب میں ہم مذہب کے بنیادی تصورات کو ایک ایک کر کے لیں گے اور دکھائیں گے کہ کس طرح مذہب آج بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے، جیسے کہ وہ پہلے تھا۔ یہاں گزشتہ دلائل پر ایک عمومی تبصرہ پیش کیا جاتا ہے۔ 1۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے اس دلیل کو لیجیے، جو طبعیاتی تحقیق کے حوالے سے پیش کی گئی ہے، یعنی کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہاں جو واقعات ہو رہے ہیں، وہ ایک متعین قانونِ فطرت کے مطابق ہو رہے ہیں، اس لیے ان کی توجیہ کرنے کے لیے کسی نامعلوم خدا کا وجود فرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ معلوم قوانین خود اس کی توجیہ کے لیے موجود ہیں۔ اس استدلال کا بہترین جواب وہ ہے جو ایک عیسائی عالم نے دیا ہے، اس نے کہا: Nature is a fact, not an explanation یعنی فطرت کا قانون کائنات کا ایک واقعہ ہے، وہ کائنات کی توجیہ نہیں ہے۔ تمہارا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہم نے فطرت کے قوانین معلوم کر لیے ہیں۔ مگر تم نے جو چیز معلوم کی ہے وہ اس مسئلے کا جواب نہیں، جس کے جواب کے طور پر مذہب وجود میں آیا ہے۔ مذہب یہ بتاتا ہے کہ وہ اصل اسباب و محرکات کیا ہیں جو کائنات کے پیچھے کام کر رہے ہیں۔ جب کہ تمہاری دریافت صرف اس مسئلہ سے متعلق ہے کہ کائنات جو ہماری سامنے کھڑی نظر آتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader