Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، اس کا ظاہری ڈھانچہ کیا ہے۔ جدید علم جو کچھ ہمیں بتاتا ہے وہ صرف واقعات کی مزید تفصیل ہے، نہ کہ اصل واقعے کی توجیہ۔ سائنس کا سارا علم اس سے متعلق ہے کہ ”جو کچھ ہے وہ کیا ہے“۔ یہ بات اس کی دسترس سے باہر ہے کہ ”جو کچھ ہے، وہ کیوں ہے“۔ جب کہ توجیہ کا تعلق اسی دوسرے پہلو سے ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ مرغی کا بچہ انڈے کے مضبوط خول کے اندر پرورش پاتا ہے، اور اس کے ٹوٹنے سے باہر آتا ہے۔ یہ واقعہ کیوں ہو رہا ہے کہ خول ٹوٹے اور بچہ جو گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں ہوتا، وہ باہر نکل آئے۔ پہلے انسان اس کا جواب یہ دیتا تھا کہ ”خدا ایسا کرتا ہے۔“ مگر اب خورد بینی مشاہدہ کے بعد معلوم ہوا کہ 21 روز کی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے، اس وقت ننھے بچے کی چونچ پر ایک نہایت چھوٹی سے سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے، اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ سینگ اپنا کام پورا کر کے بچہ کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔ مخالفین مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پرانے خیال کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ بچہ کو باہر نکالنے والا خدا ہے۔ کیوں کہ خورد بین کی آنکھ ہم کو صاف طور پر دکھارہی ہے کہ ایک 21 روزہ قانون ہے جس کے تحت وہ صورتیں پیدا ہوتی ہیں، جو بچہ کو خول کے باہر لاتی ہیں۔ مگر یہ مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ جدید مشاہدہ نے جو کچھ ہمیں بتایا ہے، وہ صرف واقعہ کی چند مزید کڑیاں ہیں، اس نے واقعے کا اصل سبب نہیں بتایا۔ اس مشاہدہ کے صورت حال میں جو فرق پیدا ہوا ہے، وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پہلے جو سوال خول کے ٹوٹنے کے بارے میں تھا، وہ ”سینگ“ کے اوپر جا کر ٹھہر گیا۔ بچہ کا اپنی سینگ سے خول کو توڑنا واقعہ کی صرف ایک درمیانی کڑی ہے، وہ واقعہ کا سبب نہیں ہے۔ واقعہ کا سبب تو اس وقت معلوم ہوگا جب ہم جان لیں کہ چونچ پر سینگ کیسے ظاہر ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں اس آخری سبب کا پتہ لگا لیں، جو بچہ کی اس ضرورت سے واقف تھا کہ اس کو خول سے باہر نکلنے کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page