Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی سخت مددگار کی ضرورت ہے، اور اس نے مادہ کو مجبور کیا کہ عین اس وقت پر ٹھیک 21 روز بعد بچے کی چونچ پر ایک ایسی سینگ کی شکل میں نمودار ہو جو اپنا کام پورا کرنے کے بعد جھڑ جائے۔ گویا پہلے یہ سوال تھا کہ "خول کیسے ٹوٹتا ہے"، اور اب سوال یہ ہو گیا کہ "سینگ کیسے بنتی ہے"۔ ظاہر ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ حقیقت کا وسیع تر مشاہدہ کہہ سکتے ہیں حقیقت کی توجیہ کا نام نہیں دے سکتے۔ یہاں میں ایک امریکی عالم حیاتیات سیسل بوائس بہمن (1984-1913) کے الفاظ نقل کروں گا: "غذا ہضم ہونے اور اس کے جزء بدن بننے کے حیرت انگیز عمل کو پہلے خدا کی طرف منسوب کیا جاتا تھا، اب جدید مشاہدہ میں وہ کیمیائی رد عمل کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ مگر کیا اس کی وجہ سے خدا کے وجود کی نفی ہوگئی۔ آخر کون طاقت ہے، جس نے کیمیائی اجزاء کو پابند کیا کہ وہ اس قسم کا مفید رد عمل ظاہر کریں۔ غذا انسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ایک عجیب و غریب خود کار انتظام کے تحت جس طرح مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ اس کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل خارج از بحث معلوم ہوتی ہے کہ حیرت انگیز انتظام محض اتفاق سے وجود میں آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مشاہدہ کے بعد تو اور زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ خدا اپنے ان عظیم قوانین کے ذریعہ عمل کرتا ہے، جس کے تحت اس نے زندگی کو وجود دیا ہے۔“ The Evidence of God in an Exapanding Universe, p. 221 اس سے آپ جدید دریافتوں کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ سائنس نے کائنات کے بارے میں انسان کے مشاہدے کو بہت بڑھا دیا ہے۔ اس نے دکھا دیا ہے کہ وہ کون سے فطری قوانین ہیں، جن میں یہ کائنات جکڑی ہوئی ہے، اور جس کے تحت وہ حرکت کر رہی ہے۔ مثلاً پہلے آدمی صرف یہ جانتا تھا کہ پانی برستا ہے، مگر اب سمندر کی بھاپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page