Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

اٹھنے سے لے کر بارش کے قطرے زمین پر گرنے تک کا وہ پورا عمل انسان کو معلوم ہو گیا ہے، جس کے مطابق بارش کا واقعہ ہوتا ہے۔ مگر یہ ساری دریافتیں صرف واقعہ کی تصویر ہیں، وہ واقعہ کی توجیہہ نہیں ہیں۔ سائنس یہ نہیں بتاتی کہ فطرت کے قوانین کیسے بن گئے۔ وہ کیسے اس قدر مفید شکل میں مسلسل طور پر زمین و آسمان میں قائم ہیں، اور اس صحت کے ساتھ قائم ہیں کہ ان کی بنیاد پر سائنس میں قوانین مرتب کیے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ فطرت جس کو معلوم کر لینے کا مدعی بن کر انسان یہ کہنے لگا ہے اس نے کائنات کی توجیہہ دریافت کر لی، وہ محض دھوکا ہے۔ یہ ایک غیر متعلق بات کو سوال کا جواب بنا کر پیش کرنا ہے۔ یہ درمیانی کڑی کو آخری کڑی قرار دینا ہے۔ یہاں پھر میں مذکورہ عالم کے الفاظ دہراؤں گا—فطرت کا ئنات کی توجیہہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے توجیہہ کی طالب ہے: Nature does not explain, she herself is in need of an explanation. اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے، تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزا ہوتے ہیں (ایک انچ کے سات ہزارویں حصہ کے برابر ) یہی سرخ ذرات خون کو سرخ کرنے کا سبب ہیں۔ ”درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟“ ”ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے، جس کا نام ہیموگلوبین (Haemoglobin) ہے۔ یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہے تو گہرا سرخ ہو جاتا ہے۔“ ”ٹھیک ہے، مگر ہیموگلوبین کے حامل سرخ ذرات کہاں سے آئے؟“ ”وہ آپ کی تلی میں بن کر تیار ہوتے ہیں۔“ ”ڈاکٹر صاحب! جو کچھ آپ نے فرمایا وہ بہت عجیب ہے، مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون، سرخ ذرات، تلی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک گل کے اندر باہم مربوط ہیں، اور اس قدر صحت کے ساتھ اپنا اپنا عمل کر رہی ہیں۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page