Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ قدرت کا قانون ہے۔“ ”وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قانون قدرت کہتے ہیں۔“ ”اس سے مراد ہے طبیعی اور کیمیائی طاقتوں کا اندھا عمل (Blind interplay of physical and chemical forces) ”مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں، جو انھیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اڑنے کے قابل ہو سکے، ایک مچھلی تیر سکے، ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے۔“ ”میرے دوست مجھ سے یہ نہ پوچھو۔ سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیا ہے۔ اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے۔“ یہ سوال و جواب واضح کر رہا ہے کہ سائنسی دریافتوں کی حقیقت کیا ہے۔ بلا شبہ سائنس نے ہم کو بہت سی نئی نئی باتیں بتائی ہیں، مگر مذہب جس سوال کا جواب ہے، اس کا ان دریافتوں سے کوئی تعلق نہیں، اس قسم کی دریافتیں اگر موجودہ مقدار کے مقابلے میں اربوں کھربوں گنا بڑھ جائیں، جب بھی مذہب کی ضرورت باقی رہے گی، کیوں کہ یہ دریافتیں صرف ہونے والے واقعات کو بتاتی ہیں، یہ واقعات کیوں ہو رہے ہیں اور ان کا آخری سبب کیا ہے، اس کا جواب ان دریافتوں کے اندر نہیں ہے، یہ تمام کی تمام دریافتیں صرف درمیانی تشریح ہیں، جب کہ مذہب کی جگہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ آخری اور کلی تشریح دریافت کر لی جائے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی مشین کے اوپر ڈھکن لگا ہوا ہو تو ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے، اگر ڈھکن اتار دیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ باہر کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page