Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

چکر کس طرح اور ایک چکر سے چل رہا ہے، اور وہ چکر کس طرح دوسرے بہت سے پرزوں سے مل کر حرکت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے سارے پرزوں اور اس کی پوری حرکت دیکھ لیں ، مگر کیا اس علم کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مشین کے خالق اور اس کے سبب حرکت کا راز بھی معلوم کر لیا ، کیا کسی مشین کی کارکردگی کو جان لینے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بخود بن گئی ہے، اور اپنے آپ چلی جا رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کائنات کی کارکردگی کی بعض جھلکیاں دیکھنے سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ یہ سارا کارخانہ اپنے آپ قائم ہوا، اور اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ ہیر لیس (A. Harris) نے یہی بات کہی تھی، جب اس نے ڈارونزم پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "Natural selection may explain the survival of the fittest, but cannot explain the arrival of the fittest," (Revolt Against Reason by A. Lunn, p.133) یعنی انتخاب طبعی کا قانون صرف زندگی کے بہتر مظاہر کے باقی رہنے کی توجیہ کر سکتا ہے، وہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ بہتر زندگیاں خود کیسے وجود میں آئیں۔ 2۔ اب نفسیاتی استدلال کو لیجیے ۔ کہا جاتا ہے کہ خدا اور دوسری دنیا کا تصور کوئی حقیقی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی شخصیت اور انسانی آرزوؤں کو کائناتی سطح پر قیاس کرنا ہے۔ لیکن میرے لیے ناقابل تصور ہے کہ اس میں استدلال کا پہلو کیا ہے۔ اس کے جواب میں اگر میں کہوں کہ فی الواقع انسانی شخصیت اور انسانی آرزوئیں کائناتی سطح پر موجود ہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ مخالفین کے پاس وہ کون سی حقیقی معلومات ہیں جن کی بنیاد پر وہ اس کی تردید کر سکیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ جنین کا خورد بینی مادہ چھے فٹ لمبے چوڑے انسان کی سطح پر ایک شخص کی موجودگی کی پیشین گوئی ہے۔ ناقابل مشاہدہ ایٹم میں وہ نظام پایا جاتا ہے، جو شمسی نظام کی سطح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page