تبصرہ
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
اربوں میل کے دائرے میں گردش کر رہا ہے۔ پھر شعور جس کا ہم انسان کی صورت میں تجربہ کر رہے ہیں، وہ اگر کائناتی سطح پر زیادہ مکمل حالت میں موجود ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ اسی طرح ہمارا ضمیر اور ہماری فطرت جس وسیع تر دنیا کو چاہتے ہیں وہ اگر ایک ایسی دنیا کی بازگشت ہو جو فنی الواقع کائنات کے پردہ میں موجود ہے تو اس میں آخر استحالہ (impossibility) کا کیا پہلو ہے۔ الف : علمائے نفسیات کا یہ کہنا بجائے خود صحیح ہے کہ بچپن میں بعض اوقات ایسی باتیں ذہن میں پڑ جاتی ہیں جو بعد کو غیر معمولی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ مگر اس سے یہ استدلال کرنا کہ انسان کی یہی وہ خصوصیت ہے، جس نے مذہب کو پیدا کیا، بالکل بے بنیاد قیاس ہے۔ یہ ایک معمولی واقعہ سے غیر معمولی نتیجہ اخذ کرنا ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے، جیسے میں کسی کمہار کو مٹی کی مورت بناتے ہوئے دیکھوں تو پکار اٹھوں کہ بس یہی وہ شخص ہے، جو ذی روح انسان کا خالق ہے۔ کھلونا سازی اور انسان سازی میں بعض اعتبار سے یقیناً مشابہت ہے، مگر دونوں کی نوعیت میں اتنا فرق ہے کہ ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ پر قیاس کرنا، ایک غیر منطقی قیاس (illogical argument) ہے۔ کمہار بیشک مٹی کے کھلونوں کا بنانے والا ہے، مگر یہ کہنا کہ اسی طرح کوئی اور کمہار تھا، جس نے خود اس کمہار کو بنایا، ایک بے تکی بات کے سوا اور کچھ نہیں۔ جدید طرزِ فکر کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ معمولی واقعہ سے غیر معمولی استدلال کرتا ہے، حالانکہ منطقی اعتبار سے اس استدلال میں کوئی وزن نہیں، اگر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص لاشعور میں دبے ہوئے خیالات کے تحت کبھی خلافِ معمول الفاظ کا منہ سے نکالنے لگتا ہے، تو اس سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ انبیاء کی زبان سے کائنات کے جس علم کا انکشاف ہوا ہے، وہ بھی اسی طرح محض لاشعور کا ایک کرشمہ ہے۔ پہلے واقعہ کو تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader