Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں اس سے دوسرے واقعے کے بارے میں استدلال کرنا ایک غیر علمی اور غیر منطقی روش کی مظاہرہ کرنا ہے، یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ توجیہہ کرنے والے کے پاس نبی کے غیر معمولی کلام کو سمجھنے کے لیے کوئی اور معیار موجود نہیں تھا، اس کو ایک ہی بات معلوم تھی— یہ کہ بعض مرتبہ کوئی شخص خواب یا جنون یا بے ہوشی کی حالت میں کچھ ایسی باتیں زبان سے نکالنے لگتا ہے جو عام طور پر ہوش کی حالت میں کسی کی زبان سے ادا نہیں ہوتیں، اس نے فوراً کہہ دیا کہ بس یہی وہ چیز ہے جو مذہی قسم کی باتوں کی ذمہ دار ہے، حالانکہ کسی کے پاس حقیقت کو ناپنے کا ایک ہی معیار ہو تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بطور واقعہ بھی حقیقت کو ناپنے کا ایک ہی معیار ہوگا۔ فرض کیجیے کہ دور کے کسی سیارہ سے ایک ایسی مخلوق زمین پر اترتی ہے، جو سنتی تو ہے مگر بولنا نہیں جانتی، وہ صرف سماعت کی صفت سے آشنا ہے، تکلم کی صفت کی اسے کوئی خبر نہیں ہے ۔ وہ انسان کی گفتگو اور تقریریں سن کر یہ تحقیق شروع کرتی ہے کہ آواز‘‘ کیا ہے، اور کہاں سے آتی ہے ۔ اس تحقیق کے دوران اس کے سامنے یہ منظر آتا ہے کہ درخت کی دو شاخیں جو باہم ملی ہوئی تھیں، اتفاقاً ہوا چلی اور رگڑ سے ان میں آواز نکلنے لگی۔ پھر جب ہوا رک گئی تو آواز بند ہو گئی۔ یہ واقعہ بار بار اس کے سامنے آتا ہے۔ اب ان میں کا ایک ’’ماہر‘‘ بغور اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اعلان کرتا ہے کہ کلام انسانی کا راز معلوم ہو گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کے منھ میں نیچے اور اوپر کے جبڑوں میں دانت کی موجودگی اس کا سبب ہے ۔ جب یہ نیچے اوپر کے دانت باہم رگڑ کھاتے ہیں تو ان سے آواز نکلتی ہے، اور اسی کو کلام کہا جاتا ہے— دو چیزوں کی رگڑ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہونا بجائے خود ایک واقعہ ہے۔ مگر اس واقعہ سے کلام انسانی کی تشریح کرنا جس طرح صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح غیر معمولی حالات میں لاشعور سے نکلی ہوئی باتوں سے کلام نبوت کی تشریح نہیں کی جاسکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page