تبصرہ
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
ب: لاشعور میں جو خیالات دبا دیے جاتے ہیں وہ اکثر اوقات ایسی ناپسندیدہ خواہشیں ہوتی ہیں، جو خاندان اور سماج کے خوف سے پوری نہیں ہوسکیں۔ مثلاً کسی کے اندر اپنی بہن یا لڑکے کے ساتھ جنسی جذبہ پیدا ہو تو وہ اس خیال سے اسے دبا دیتا ہے کہ اس کا ظاہر کرنا رسوائی کا باعث ہوگا، اگر ایسا نہ ہو تو وہ شاید اس کے ساتھ شادی کرنا پسند کرتا، کسی کو قتل کرنے کا خیال ہو تو آدمی اس ڈر سے اپنے ذہن میں دفن کر دیتا ہے کہ اس کو جیل جانا پڑے گا وغیرہ وغیرہ۔ گویا لاشعور میں دبی ہوئی خواہشیں اکثر اوقات وہ برائیاں ہوتی ہیں، جو ماحول کے خوف سے بروئے کار نہ آسکیں، اب اگر ایسے کسی شخص میں ذہنی اختلال (mental disorder) پیدا ہو اور اس کا لاشعور ظاہر ہونا شروع کرے تو اس سے کیا ظاہر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ وہی برے جذبات اور غلط خو ائشیں اس کی زبان سے نکلیں گی جو اس کے لاشعور میں بھری ہوئی تھیں، وہ شر کا پیغمبر ہوگا، خیر کا پیغمبر نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس، انبیاء کی زبان سے جس مذہب کا ظہور ہوا ہے، وہ سرتاپا خیر اور پاکیزگی ہے۔ ان کا کلام اور ان کی زندگی خیر اور پاکیزگی کا اتنا اعلیٰ نمونہ ہے کہ انبیاء کے سوا کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہی نہیں بلکہ ان کے خیالات میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ وہی سماج جس کے ’’خوف‘‘ سے انھوں نے کبھی اپنے خیالات اپنے ذہن میں چھپا لیے تھے، وہ اس پر دل و جان سے فریفتہ ہو جاتا ہے، اور صدیاں گزر جاتی ہیں، پھر بھی انھیں نہیں چھوڑتا۔ ج: نفسیاتی نقطہ نظر سے انسان کا لاشعور اصلاً خلا (vacuum) ہے۔ اس میں پہلے سے کوئی چیز موجود نہیں ہوتی بلکہ شعور کی راہ سے گزر کر پہنچتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لاشعور صرف واردات اور معلومات کا گودام ہے، جو کبھی انسان کے علم میں آیا ہو۔ وہ نامعلوم حقائق کا خزانہ نہیں بن سکتا۔ لیکن یہ حیرت انگیز بات ہے کہ انبیاء کی زبان سے جس مذہب کا اعلان ہوا ہے، وہ ایسی حقیقتوں پر مشتمل ہے، جو وقتی نہیں، دائمی ہیں۔ وہ ایسی باتیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader