Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں جو نہ تو انھیں پہلے سے معلوم تھیں، نہ ان کے وقت تک پوری نسل انسانی کو معلوم ہو سکتی تھیں۔ اگر حقائق کا سر چشمہ لاشعور ہوتا تو وہ ہر گز ایسے نامعلوم حقائق کا اظہار نہیں کر سکتا تھا۔ انبیاء کی زبان سے جس مذہب کا اظہار ہوا ہے اس میں فلکیات، طبیعیات، حیاتیات، نفسیات، تاریخ تمدن، سیاست، معاشرت، غرض سارے ہی علوم کسی نہ کسی اعتبار سے مس ہوتے ہیں۔ ایسا ہمہ گیر کلام لاشعور تو درکنار شعور کے تحت بھی اب تک کسی انسان سے ظاہر نہیں ہوا جس میں غلط فیصلے، خام اندازے، غیر واقعی بیانات اور ناقص دلائل موجود نہ ہوں۔ مگر مذہبی کلام حیرت انگیز طور پر اس قسم کی غلطیوں سے بالکل پاک ہے۔ وہ اپنی دعوت، اپنے استدلال اور اپنے فیصلوں میں تمام انسانی علوم کو چھوٹا ہے۔ مگر سیکڑوں، ہزاروں برس گزر جاتے ہیں، اگلی نسلوں کی تحقیق پچلی نسلوں کے خیالات کو بالکل بے بنیاد ثابت کر دیتی ہے۔ مگر مذہب کی صداقت پھر بھی باقی رہتی ہے۔ آج تک حقیقی معنوں میں اس کے اندر کسی غلطی کی نشاندہی نہ ہوسکی۔ اگر کسی نے ایسی کوشش کی ہے تو وہ خود ہی غلط کار ثابت ہوا ہے۔ میں ایک کتاب (1935ء) کی مثال دیتا ہوں جس میں ماہر فلکیات جیمز ہنری بریسٹڈ (James Henry Breasted) نے انتہائی یقین کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اس نے قرآن میں ایک فنی غلطی ڈھونڈ نکالی ہے۔ وہ لکھتا ہے: ”مغربی ایشیا کی قوموں میں طویل مدت کے رواج اور خاص طور پر اسلام کے غلبہ نے قمری کیلنڈر کو دنیا بھر میں رائج کر دیا۔ قمری اور شمسی سال کے درمیان فرق کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس انتہائی لغو حد تک لے گئے جو کہ تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہ کیلنڈر کے مسائل کی نوعیت سے اتنا زیادہ بے خبر تھے کہ قرآن میں باضابطہ انھوں نے کبیسہ کے مہینے (Intercalary Months) کا ٹھہرانا ممنوع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page