تبصرہ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
قرار دے دیا۔ 354 دنوں کا نام نہاد قمری سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی گردش میں ہر 33 سال میں ایک سال اور ہر صدی میں تین سال زیادہ ہو جاتا ہے۔ ایک ماہانہ مذہبی عمل جیسے رمضان اگر اس وقت جون میں ہو تو چھ (6) سال بعد وہ اپریل میں آئے گا۔ 1935 میں ہجرت کو 1313 سال گزر چکے ہیں، جب سے کہ ہجری سال شروع ہوا۔ مگر ہماری ہر ایک صدی مسلمانوں کے قمری سال کے اعتبار سے ایک سو تین سال سے زیادہ کی ہوتی ہے، ہمارے عام شمسی سالوں کے اعتبار سے جب 1313 سال ہوتے ہیں تو مسلم سال کے اعتبار سے تقریباً اکتالیس (41) سال زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کا سال ہجری وقت تحریر 1354 تک پہنچ چکا ہے، یعنی شمسی اعتبار سے 1313 سالوں میں 41 سال مزید۔ مشرقی ملکوں کے یہودی چرچ نے اس قسم کی لغویت (absurdity) کو ختم کرکے لوند یا مہینوں کے اضافے کا طریقہ (intercalation) کو اختیار کیا اور اس طرح اپنے قمری کیلنڈر کو شمسی سال کے ڈھانچہ کے مطابق بنا لیا۔ اس بنا پر تمام مغربی ایشیا اب تک اس انتہائی قدیم طریقے کے قمری کیلنڈر کی زحمت کو برداشت کر رہا ہے۔‘‘ Time and its Mysteries, New York. 1962, p. 56 یہاں مجھے شمسی اور قمری کیلنڈر کے فرق پر کوئی بحث نہیں کرنی ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مصنف نے جس واقعہ کو پیغمبرِ اسلام کی طرف منسوب کرکے ’’ انتہائی لغو بے خبری‘‘ کا الزام لگایا ہے، وہ واقعہ بذاتِ خود صحیح نہیں۔ قرآن میں جس چیز کی ممانعت کی گئی ہے، وہ کبیسہ کا مہینہ ٹھہرانا نہیں، بلکہ ’’نسی‘‘ ہے (التوبہ، 9:37)۔ نسی کے معنی عربی زبان میں تاخیر کے ہیں، یعنی موخر کرناٹانا، مثلاً حوض پر ایک جانور پانی پی رہا ہے، اور آپ نے اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader