Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

ہٹا کر اپنے جانور کو حوض پر کھڑا کر دیا کہ پہلے آپ کا جانور پانی پی لے، اس کے بعد دوسراپے، تو اس طرح ہٹانے کو کہیں گے۔۔"نِسَأ الدَّابَّةَ"۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے عرب میں جو طریقے رائج ہوئے تھے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے"اشہر حرم" (خاص ادب واحترام کے مہینے) ہیں، یہ مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب تھے، ان میں خونریزی اور جدال وقتال قطعاً بند کر دیا جاتا تھا۔ لوگ حج وعمرہ اور کاروبار کے لیے امن وامان کے ساتھ آزادانہ سفر کر سکتے تھے۔ بعد کو جب قبائل عرب میں سرکشی پیدا ہوئی تو انھوں نے اس قانون کی پابندی سے بچنے کے لیے نَسِی کی رسم نکالی، یعنی جب کسی زور آور قبیلہ کی خواہش ماہ محرم میں جنگ کرنے کی ہوئی تو اس سردار نے اعلان کر دیا کہ اس سال ہم نے محرم کو اشہر حرم سے نکال کر اس کی جگہ صفر کو حرام کر دیا۔ دوسرے لفظوں میں محرم کو اپنی جگہ سے ہٹا کر صفر کی جگہ رکھ دیا۔ یہی محترم مہینوں کو آگے پیچھے کرنے کی رسم تھی، جس کو نَسِی کہا جاتا تھا، اوراسی کے متعلق قرآن (9:37) میں کہا گیا ہے کہ یہ "زِيَادَةٌ فِي الْکُفْرِ" ہے، یعنی کفر میں ایک اضافہ ہے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ عربوں میں "لوند" کی بھی ایک قسم کا رواج تھا، یعنی مہینوں کا عدد بدل دیتے تھے، مثلاً بارہ مہینے کے چودہ بنا لیے، مگر ایک مفسر قرآن کے الفاظ ہیں: "بعض اقوام جو اپنے مہینوں کا حساب درست رکھنے کے لیے لوند کا مہینہ ہر تیسرے سال بڑھاتی ہیں، وہ نسی میں داخل نہیں"۔ معلوم ہوا کہ دور بے خبری میں بھی پیغمبر اسلام نے بے خبری کی بات نہیں کہی، حالانکہ اگر ان کے الفاظ صرف لاشعور سے نکلے ہوئے ہوتے تو اس قسم کی بے خبری کا ظاہر ہونا لازمی تھا۔ 3۔ تاریخ یا سماجی مطالعہ کے حوالے سے استدلال کرنے والوں کی بنیادی غلطی یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page