Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ وہ صحیح رخ سے مذہب کا مطالعہ نہیں کرتے، اس لیے پورا مذہب ان کو اصل حقیقت کے خلاف ایک اور ہی شکل میں نظر آنے لگتا ہے، ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چو کور چیز کو کوئی شخص تر چھا کھڑا ہو کر دیکھے، ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو وہی چیز جو حقیقتاً چو کور ہے، تکونی نظر آسکتی ہے۔ ان حضرات کی غلطی یہ ہے کہ وہ مذہب کا مطالعہ ایک معروضی مسئلہ (objective problem) کے طور پر کرتے ہیں۔ (۱) یعنی ظاہری طور پر مذہب کے نام سے جو کچھ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے، ان سب کو مذہب کے اجزا سمجھ کر یکساں حیثیت سے جمع کر لینا اور پھر ان کی روشنی میں مذہب کے بارے میں ایک رائے قائم کرنا۔ اس کی وجہ سے پہلے ہی قدم پر ان کی پوزیشن غلط ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مذہب ان کی نظروں میں محض ایک سماجی عمل بن جاتا ہے، نہ کہ کوئی سچائی کی دریافت۔ ایک چیز جو سچائی کی دریافت کی نوعیت رکھتی ہو، وہ بذاتِ خود ایک آئیڈیل ہوتی ہے، اور اس کے اپنے آئیڈیل کی روشنی میں اس کے مظاہر اور اس کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو چیز سماجی عمل کی حیثیت رکھتی ہو، اس کا اپنا کوئی آئیڈیل نہیں ہوتا بلکہ سماج کا عمل ہی اس کی حقیقت کا تعین کرتا ہے۔ کوئی چیز جو سماجی آداب یا سماجی روایات کی حیثیت رکھتی ہو۔ اس کی حیثیت صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے، جب تک سماج نے بالفعل اس کو یہ حیثیت دے رکھی ہو، اگر سماج اس کو چھوڑ کر اس کی جگہ کوئی اور طریقہ اختیار کرلے تو پھر وہ ایک تاریخی چیز ہو جاتی ہے، اور سماجی روایت کی حیثیت سے اس کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔ مگر مذہب کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مذہب کا مطالعہ ہم اس طرح نہیں کر سکتے، جس طرح ہم سواری، لباس اور مکان کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ مذہب اپنی ذات میں (1) J.Huxly, Man in the Modren World, p. 129

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page