Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حقیقت ہے، جس کو سماج اپنے ارادہ سے قبول کرتا ہے یا اسے قبول نہیں کرتا یا قبول کرتا ہے تو ناقص شکل میں۔ اس کی وجہ سے مذہب اپنی اصولی حیثیت میں تو ہمیشہ یکساں رہتا ہے، مگر سماج کے اندر رواج یافتہ ہیئت کے اعتبار سے اس کی شکلیں مختلف ہو جاتی ہیں۔ اس لیے سماج کے اندر رواج یافتہ مذاہب کی یکساں فہرست بندی کر کے ہم مذہب کو سمجھ نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر جمہوریت (democracy) کو لیجیے۔ جمہوریت ایک مخصوص سیاسی معیار کا نام ہے، اور کسی حکومت کو اس معیار کی روشنی ہی میں جمہوری یا غیر جمہوری کہا جا سکتا ہے، یعنی جمہوریت کے اپنے معیار کی رو سے تمام ملکوں کو دیکھا جائے گا، اور صرف اسی رویہ کو جمہوری قرار دیا جائے گا جو حقیقتاً جمہوری ہو۔ اس کے برعکس، اگر جمہوریت کا مطالعہ اس طرح کیا جائے کہ ہر وہ ملک جس نے اپنے نام کے ساتھ ”جمہوری“ کا لفظ لگا رکھا ہے، اس کو حقیقتاً جمہوری فرض کر کے جمہوریت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو پھر جمہوریت ایک بے معنی لفظ بن جائے گا۔ کیوں کہ ایسی حالت میں امریکا کی جمہوریہ چین کی جمہوریت سے مختلف ہوگی، انگلینڈ کی جمہوریہ مصر کی جمہوریت سے ٹکرائے گی، ہندوستان کی جمہوریت کا پاکستان کی جمہوریت سے کوئی جوڑ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد جب ان سارے مشاہدات کو ارتقائی ڈھانچہ میں رکھ کر دیکھا جائے گا تو وہ اور زیادہ بے معنی ہو جائے گا۔ کیوں کہ فرانس جو جمہوریت کا مقام پیدائش ہے، اس کا مطالعہ بتائے گا کہ جمہوریت اپنے بعد کے ارتقائی مرحلہ کے مطابق نام ہے، جنرل ڈیگال (1970-1890ء) کی فوجی آمریت کا۔ اس طریق مطالعہ کا نتیجہ ہے کہ مذہب کے لیے خدا کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ مذہب کی تاریخ میں اس کی مثال موجود ہے کہ مذہب خدا کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ مثال بدھازم کی ہے، جو ”مذہب“ ہونے کے باوجود خدا کے تصور سے خالی ہے۔ اس لیے آج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page