تبصرہ
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت سے لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ مذہب کا مطالعہ خدا سے الگ کرکے کیا جانا چاہیے، اگر اس ضرورت کو تسلیم کرلیا جائے کہ لوگوں کے اندر اخلاق اور تنظیم پیدا کرنے کے لیے مذہبی نوعیت کی کوئی چیز ضروری ہے تو اس مقصد کے لیے لازمی طور پر خدا کو ماننا ضروری نہیں، بے خدا مذہب بھی اس ضرورت کو پورا کرسکتا ہے، چنانچہ یہ لوگ بدھازم کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ اب موجودہ ترقی یافتہ دور میں اس قسم کا مذہبی سماج کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ ان حضرات کے نزدیک دورِ جدید کا خدا خود سماج اور اس کے سیاسی اور معاشی مقاصد ہیں۔ اس خدا کا پیغمبر پارلیمنٹ ہے، جس کے ذریعہ وہ اپنی مرضی سے انسانوں کو باخبر کرتا ہے، اور اس کی عبادت گاہیں، مسجد اور گرجا نہیں، بلکہ ڈیم اور کارخانے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ (ملاحظہ ہو جولین ہکسلے کی کتاب "مذہب بغیر الہام") مذہب کو اقرارِ خدا سے انکارِ خدا تک پہنچانے میں ارتقائی مطالعہ کا بھی دخل ہے۔ یہ حضرات یہ کرتے ہیں کہ پہلے ان تمام چیزوں کو جمع کرلیتے ہیں جو کبھی مذہب کے نام سے منسوب رہی ہیں، اور اس کے بعد اپنی مرضی کے مطابق ان کے درمیان ایک ارتقائی ترتیب قائم کرلیتے ہیں، جس میں ایسے تمام پہلوئوں کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے، جس سے ان کی مزعومہ ارتقائی ترتیب مشتبہ ہوسکتی ہو، مثلاً انسانیات (anthropology) اور سماجیات (sociology) کے ماہرین نے زبردست مطالعہ اور تحقیق کے بعد یہ "دریافت" کیا ہے کہ خدا کا تصور کئی خداوئوں سے شروع ہوا اور بتدریج ترقی کرتے کرتے ایک خدا تک پہنچا، لیکن یہ ترقی ان کے نزدیک الٹی ہوئی ہے۔ کیوں کہ خدا کے تصور نے ایک خدا کی شکل اختیار کرکے اپنے آپ کو تضاد میں مبتلا کرلیا ہے، "کئی خدا" کا تصور کم ازکم اپنے اندر یہ قدرت رکھتا تھا کہ مختلف خداوئوں کو ماننے والے ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے باہم مل جل کر رہیں، "مگر ایک خدا" کے عقیدے نے قدرتی طور پر تمام دوسرے خداوئوں اور ان کے ماننے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader