Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

والوں کو باطل ٹھہرایا اور برتر مذہب (Higher Religion) کا تصور پیدا کیا، جس کی وجہ سے قوموں اور گروہوں میں کبھی نہ ختم ہونے والی جنگیں شروع ہوگئیں، اس طرح خدا کے تصور نے غلط سمت میں ارتقا کر کے خود ہی اپنے لیے موت کا سامان مہیا کر دیا ہے، کیوں کہ ارتقا کا قانون یہی ہے۔ Man in the Modren World, p. 112 مگر اس ارتقائی ترتیب میں صریح طور پر اصل واقعہ کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، کیوں کہ معلوم تاریخ کے مطابق سب سے پہلے پیغمبر حضرت نوح تھے، اور ان کی دعوت کے متعلق ثابت ہے کہ وہ ایک خدا کی دعوت تھی، اس کے علاوہ تعدد آلہہ (Polytheism) کا مطلب بھی مطلق تعدد نہیں ہے، کبھی کوئی قوم ان معنوں میں مشرک نہیں رہی ہے کہ وہ بالکل یکساں نوعیت کے کئی خدا مانتی ہو۔ اس کے برعکس تعدد آلہہ کا مطلب ایک بڑے خدا کو مان کر کچھ اس کے مقربین خاص کا اقرار کرنا ہے، جو ذیلی خداؤں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ شرک کے ساتھ ہمیشہ ایک ”خدائے خدایگان“ کا تصور پایا جاتا رہا ہے۔ ایسی حالت میں ”ارتقائی مذہب“ ایک بے دلیل عقیدہ کے سوا اور کیا ہے۔ مارکسی نظریہ تاریخ اور زیادہ بے معنی ہے۔ یہ نظریہ اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ اقتصادی حالات ہی وہ اصل عامل ہیں، جو انسان کی تعمیر و تشکیل کرتے ہیں، مذہب جس زمانے میں پیدا ہوا وہ جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام کا زمانہ تھا۔ اب چوں کہ جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام استحصال اور لوٹ کھسوٹ کا نظام ہے، اس لیے اس کے درمیان پیدا ہونے والے اخلاقی ومذہبی تصورات بھی یقینی طور پر اپنے ماحول ہی کا عکس ہوں گے وہ لوٹ کھسوٹ کے نظریات ہوں مگر یہ نظریہ علمی حیثیت سے کوئی وزن رکھتا ہے، اور نہ تجزیہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ نظریہ انسانی ارادہ کی بالکلیہ نفی کر دیتا ہے، اور اس کو صرف معاشی حالات کی پیداوار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page