Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی اپنی کوئی ہستی نہیں، جس طرح صابن کے کارخانے میں صابن ڈھلتے ہیں، اسی طرح آدمی بھی اپنے ماحول کے کارخانے میں ڈھلتا ہے، وہ الگ سے سوچ کر کوئی کام نہیں کرتا بلکہ جو کچھ کرتا ہے، اسی کے مطابق سوچنے لگتا ہے، اگر یہ واقعہ ہے تو مارکس، جو خود بھی’’سرمایہ دارانہ نظام‘‘کے اندر پیدا ہوا تھا، اس کے لیے کس طرح ممکن ہوا کہ وہ اپنے وقت کے معاشی حالات کے خلاف سوچ سکے۔ کیا اس نے زمین کا مطالعہ چاند پر جا کر کیا تھا، اگر مذہب کو پیدا کرنے والی چیز وقت کا اقتصادی نظام ہے تو آخر مارکس ازم بھی وقت کے اقتصادی نظام کی پیداوار کیوں نہیں ہے۔ مذہب کی جو حیثیت مارکس ازم کو تسلیم نہیں ہے، وہی حیثیت اس کے اپنے لیے کس طرح جائز ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ اشتعال انگیز حد تک لغو ہے، اس کے پیچھے کوئی بھی علمی اور عقلی دلیل موجود نہیں۔ تجربے سے بھی اس نظریے کی غلطی واضح ہو چکی ہے۔ روس کی مثال اس کو سمجھنے کے لیے کافی ہے، جہاں تقریبا آدھی صدی سے اس نظریہ کو مکمل غلبہ حاصل ہے، طویل ترین مدت سے زبردست پروپیگنڈہ ہو رہا ہے کہ روس کے مادی حالات بدل گئے ہیں، وہاں کا نظام پیداوار، نظام تبادلہ اور نظام تقسیم دولت سب غیر سرمایہ دارانہ ہو چکا ہے، مگر اسٹالن کے مرنے کے بعد خود روسی لیڈروں کی طرف سے تسلیم کیا گیا ہے کہ اسٹالن کے زمانۂ حکومت میں روس کے اندر ظلم و جبر کا نظام رائج تھا، اور عوام کا اسی طرح استحصال کیا جا رہا تھا، جیسے سرمایہ دارانہ ملکوں میں ہوتا ہے، اور اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ روس میں پریس پر حکومت کا مکمل کنٹرول ہونے کی وجہ سے اسٹالن کے لیے یہ ممکن ہو سکا کہ وہ اپنے ظلم اور استحصال کو دنیا کے سامنے عدل وانصاف کے نام سے مشہور کرے، اور پریس کا یہی کنٹرول اب بھی وہاں جاری ہے، تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے آج بھی خوبصورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page