تبصرہ
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
پروپیگنڈے کے پس منظر میں روس کے اندر وہی سب کچھ ہورہا ہے، جو استالن کے زمانے میں ہوتا تھا۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس (فروری 1956ء) نے استالن کے مظالم کا انکشاف کیا تھا۔ اس کے بعد اگر پارٹی کی مثلاً پچیسویں کانگریس کے دوسرے جانشینوں کی درندگی کا راز فاش کرے تو اس میں ہرگز اچمبے کی کوئی بات نہ ہوگی (اکتوبر 1964ء میں خروشیف کی برطرفی اور اس کے بعد کے واقعات سے اس کی تصدیق ہو چکی ہے) ۔ آدھی صدی کے اس تجربے سے جو نتیجہ نکلا ہے، اس کا مطلب صاف طور پر یہ ہے کہ پیداوار اور تبادلہ کا نظام خیالات کی صورت گری سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، اگر انسانی ذہن نظام پیداوار کا تابع ہوتا اور اسی کے مطابق خیالات پیدا ہوا کرتے تو اشتراک کی حکومت میں ظلم اور استحصال کی ذہنیت بھی یقینی طور پر ختم ہو جانی چاہیے تھی۔ جب کہ وہاں پیدا وار کا نظام اشتراک کی اصول کے مطابق بالکل بدل دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے خلاف دور جدید کا پورا استدلال ایک قسم کا علمی سفسطہ (Scientific Sophism) ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس نام نہاد علمی استدلال کی حقیقت صرف یہ ہے کہ ”کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا‘ ‘ یہ صحیح ہے کہ واقعات کے مطالعہ کے لیے ”علمی طریقہ“ اختیار کیا جاتا ہے، مگر علمی طریقہ محض ایک طریقہ ہونے کی وجہ سے صحیح نتائج تک نہیں پہنچا سکتا، اسی کے ساتھ دوسرے ضروری پہلوؤں کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے ۔ مثلاً ادھوری اور یک رخی معلومات پر اگر علمی طریقہ کو آزمایا جائے تو وہ بظاہر علمی ہونے کے باوجود ناقص اور غلط نتیجے ہی تک پہنچائے گا۔ جنوری 1964ء کے پہلے ہفتہ میں نئی دہلی میں مستشرقین کی ایک بین الاقوامی کانگریس ہوئی، جس میں بارہ سو علمائے مشرقیات (orientalists) شریک ہوئے۔ اس موقع پر ایک صاحب نے ایک مقالہ پڑھا جس میں کئی مسلم یادگاروں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader