Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

تا کہ وہ مسلمانوں کی بنوائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ ہندو راجاؤں کی بنوائی ہوئی ہیں۔ مثلاً قطب مینار جو قطب الدین ایبک کی طرف منسوب ہے، وہ دراصل وشنو دھوج ہے، جس کو اب سے 23 سو سال پہلے سمندر گپت نے بنوایا تھا، بعد کے مسلم مورخین نے اس کو غلط طور پر قطب مینار کے نام سے پیش کیا، اس کی دلیل یہ ہے کہ قطب مینار میں ایسے پتھر لگے ہوئے ہیں، جو بہت پرانے ہیں، اور قطب الدین ایبک سے بہت پہلے تراشے گئے تھے۔ بظاہر یہ ایک علمی استدلال ہے، کیوں کہ یہ واقعہ ہے کہ قطب مینار میں ایسے کچھ پتھر موجود ہیں، مگر قطب مینار کے مطالعہ کے لیے صرف اس کے پرانے پتھروں کا حوالہ دینے سے علمی استدلال کا حق ادا نہیں ہوتا، اسی کے ساتھ اور بہت سے پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے، اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ توجیہ قطب مینار پر پوری طرح چسپاں نہیں ہوتی، اس کے بجائے یہ دوسری توجیہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ اس کے پرانے پتھر دراصل پرانی عمارتوں کے کھنڈر سے حاصل کیے گئے جس طرح دوسری قدیم سنگی عمارتوں میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں، پھر جب اس دوسری توجیہ کو قطب مینار کی ساخت، اس کے نقشۂ تعمیر، پرانے پتھروں کا اندازِ نصب، مینار کے ساتھ نا تمام مسجد اور جوابی مینار کے بقیہ آثار نیز تاریخی شہادتوں کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو ثابت ہو جاتا ہے کہ یہی دوسری توجیہ صحیح ہے، اور پہلی توجیہ ایک مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ مخالفین مذہب کا مقدمہ بھی بالکل ایسا ہی ہے، جس طرح مذکورہ بالا مثال میں چند پتھروں کو ایک خاص رنگ دے کر سمجھ لیا گیا ہے کہ علمی استدلال حاصل ہو گیا۔ اسی طرح چند جزئی اور اکثر اوقات غیر متعلق واقعات کو ناقص رخ سے پیش کر کے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ علمی طریق مطالعہ نے مذہب کی تردید کردی، حالانکہ واقعہ کے تمام اجزاء کو صحیح رخ سے دیکھا جائے تو بالکل دوسرا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page