تبصرہ
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی صداقت کا یہ بذاتِ خود ایک کافی ثبوت ہے کہ اس کو چھوڑنے کے بعد بہترین ذہن بھی ال ٹپ باتیں کرنے لگتے ہیں، اس کے بعد آدمی کے پاس مسائل پر غور وفکر کے لیے کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی، مخالفین مذہب کی فہرست میں جو نام ہیں، وہ اکثر نہایت ذہین اور ذی علم افراد ہیں۔ بہترین دماغ، وقت کے بہترین علوم سے آراستہ ہو کر اس میدان میں اترے ہیں، مگر ان اہل دماغ نے ایسی ایسی مہمل باتیں لکھی ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو لکھتے وقت آخر ان کا دماغ کہاں چلا گیا تھا۔ یہ سارا لٹریچر بے یقینی، تضاد، اعتراف ناواقفیت اور ال ٹپ استدلال سے بھرا ہوا ہے۔ کھلی ہوئی حقیقتوں کو نظر انداز کرنا اور معمولی تنکے کے سہارے دعووں کے پل کھڑے کرنا۔ یہ ان کا کل کارنامہ ہے۔ صورتِ حال بلا شبہ اس بات کا ایک قطعی ثبوت ہے کہ ان حضرات کا مقدمہ صحیح نہیں، کیوں کہ بیان اور استدلال کی یہ خرابیاں صرف غلط مقدمہ کی خصوصیت ہیں، صحیح مقدمے میں کبھی یہ چیزیں پائی نہیں جاسکتی۔ مذہب کی صداقت اور مخالفین مذہب کے نظریے کی غلطی اس سے بھی واضح ہے کہ مذہب کو مان کر زندگی اور کائنات کا جو نقشہ بنتا ہے، وہ ایک نہایت حسین و جمیل نقشہ ہے، وہ انسان کے اعلیٰ افکار سے اسی طرح مطابق ہے، جیسے مادی کائنات ریاضیاتی معیاروں کے عین مطابق ہے، اس کے برعکس مخالف مذہب فلسفہ کے تحت جو نقشہ بنتا ہے، وہ انسانی ذہن سے بالکل غیر متعلق ہے، یہاں میں برٹرینڈ رسل کا ایک اقتباس نقل کروں گا: ’’انسان ایسے اسباب کی پیدا وار ہے، جن کا پہلے سے سوچا سمجھا کوئی مقصد نہیں۔ اس کا آغاز، اس کی نشوونما، اس کی تمنائئیں اور اس کے اندیشے، اس کی محبت اور اس کے عقائد، سب محض ایٹموں کی اتفاقی ترتیب کا نتیجہ ہیں۔ اس کی زندگی کی انتہا قبر ہے، اور اس کے بعد کوئی چیز بھی اسے زندگی عطا نہیں کر سکتی۔ صدیوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader