تبصرہ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
جدوجہد، تمام قربانیاں، بہترین احساسات اور عبقریت کے روشن کارنامے سب نظام شمسی کے خاتمہ کے ساتھ فنا ہو جانے والی چیزیں ہیں۔ انسانی کامرانیوں کا پورا محل ناگزیر طور پر کائنات کے ملبے کے نیچے دب کر رہ جائے گا، یہ باتیں اگر بالکل قطعی نہیں تو وہ حقیقت سے اتنی قریب (so nearly certain) ہیں کہ جو فلسفہ بھی اس کا انکار کرے گاوہ باقی نہیں رہ سکتا۔‘ Limitations of Science, p. 133 یہ اقتباس گو یا غیرمذہبی مادی فکر کا خلاصہ ہے۔ اس کے مطابق ساری زندگی نہ صرف یہ کہ بالکل تیرہ و تار نظر آتی ہے، بلکہ اگر زندگی کی مادی تعبیر کو لیا جائے تو پھر خیر و شر کا کوئی قطعی معیار باقی نہیں رہتا، اس کی رو سے انسانوں پر بم گرانا کوئی ظالمانہ فعل نہیں، کیوں کہ انسانوں کو بہر حال ایک دن مرنا ہے۔ اس کے برعکس مذہبی فکر میں امید کی روشنی ہے، اس میں زندگی اور موت دونوں بامعنی نظر آتے ہیں، اس میں ہماری نفسیات کے تمام تقاضے اپنی جگہ پا لیتے ہیں، ایک تصور کے ریاضیاتی ڈھانچے فٹ ہو جانے کے بعد اگر سائنسداں مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس نے حقیقت پالی تو مذہبی تصور کا انسانی ذہن میں پوری طرح بیٹھ جانا یقینی طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو انسان کی فطرت تلاش کر رہی تھی، اس کے بعد ہمارے پاس اس کے انکار کے لیے کوئی واقعی بنیاد نہیں رہتی۔ یہاں میں ایک امریکی ریاضی داں (Earl Chester Rex) کے الفاظ نقل کروں گا: ’’میں سائنس کے اس تسلیم شدہ اصول کو استعمال کرتا ہوں جو زیادہ مختلف نظریوں میں سے کسی ایک انتخاب کے لیے کام میں لایا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق اس نظریے کو اختیار کر لیا جاتا ہے، جو مقابلہً نہایت سادگی کے ساتھ تمام متنازعہ فیہ مسائل کی تشریح کر دے، بہت عرصہ ہوا جب یہی اصول ٹالمی کے نظریے(Ptolemaic Theory) اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader