Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تبصرہ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

کو پر نیکس کے نظریے کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، اول الذکر کا دعویٰ تھا کہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز ہے، اسکے بر عکس ثانی الذکر کہتا تھا کہ سورج نظامِ شمسی کا مرکز ہے، ٹولومی کا نظریہ اس قدر پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا کہ زمین کی مرکزیت کا نظریہ رد کر دیا گیا۔“ The Evidence of God, p. 179 مجھے اعتراف ہے کہ میرا یہ استدلال بہت سے لوگوں کے لیے کافی نہیں ہوگا، ان کے مادی ذہن کے چوکھٹے میں کسی طرح خدا اور مذہب کی بات نہیں بیٹھے گی۔ مگر جو چیز مجھے مطمئن کرتی ہے، وہ یہ کہ ان حضرات کا عدم اطمینان حقیقتاً مذہب کے حق میں استدلال کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ ان کا وہ کنڈیشنڈ ذہن ہے، جو مذہبی استدلال کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، جیمز جینیز نے اپنی کتاب ’’پر اسرار کائنات‘‘ کے آخر میں نہایت صحیح لکھا ہے کہ میرے خیال میں ہمارے جدید ذہن واقعات کی مادی توجیہہ کے حق میں ایک طرح کا تعصب رکھتے ہیں: Our modem minds have, I think, a bias towards mechanical interpretation. (Mysterious Universe, p. 189) وھیٹکر چیمبرز (1961-1901, Whittaker Chambers) نے اپنی کتاب شہادت (Witness) میں اپنے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے، جو بلا شبہ اس کی زندگی کے لیے ایک نقطہ انقلاب (turning point) بن سکتا تھا۔ وہ اپنی چھوٹی بچی کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اس کی نظر بچی کے کان پر جا پڑی اور غیر شعوری طور پروہ اس کی ساخت کی طرف متوجہ ہو گیا، اس نے اپنے جی میں سوچا ۔ ’’ یہ کتنی غیر ممکن بات ہے کہ ایسی پیچیدہ اور نازک چیز محض اتفاق سے وجود میں آجائے، یقیناً یہ پہلے سے سوچے سمجھے نقشے کے تحت ہی ممکن ہوئی ہوگی‘‘۔ مگر اس نے جلد ہی اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا، کیوں کہ اسے احساس ہوا کہ اگر وہ اس کو ایک منصوبہ مان لے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ اسے منصوبہ ساز (خدا) کو بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page