تبصرہ
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
ماننا ہوگا، اور یہ ایک ایسا تصور تھا، جسے قبول کرنے کے لیے اس کا ذہن آمادہ نہیں تھا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تھامس ڈیویڈ پارکس (Thomas David Parks) لکھتا ہے: ”میں اپنے پروفیسروں اور ریسرچ کے سلسلے میں اپنے رفقائے کار میں بہت سے سائنس دانوں کے بارے میں جانتا ہوں کہ علم کیمیا اور طبیعیات کے مطالعہ و تجربہ کے دوران میں انھیں بھی متعدد مرتبہ اس طرح کے احساسات سے دوچار ہونا پڑا۔“ The Evidence of God in an Expanding Universe. Edited by John Clover Monsma, New York ,1958, p.73-74 نظریہ ارتقا کی صداقت پر موجودہ زمانے کے ”سائنسداں‘‘ متفق ہو چکے ہیں۔ ارتقا کا تصور ایک طرف تمام علمی شعبوں پر چھایا جا رہا ہے، ہر وہ مسئلہ جس کو سمجھنے کے لیے خدا کی ضرورت تھی، اس کی جگہ بے تکلف ارتقا کا ایک خوبصورت بت بنا کر رکھ دیا گیا ہے، مگر دوسری طرف عضو یاتی ارتقا (Organic Evolution) کا نظریہ، جس سے تمام ارتقائی تصورات اخذ کیے گئے ہیں، اب تک بے دلیل ہے، حتیٰ کہ بعض علما نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اس تصور کو ہم صرف اس لیے مانتے ہیں کہ اس کا کوئی بدل ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ سر آرتھر کیتھ (Sir Arthur Keith, 1866-1955) نے 1953ء میں کہا تھا: "Evolution is unproved and unprovable. We believe it only because the only alternative is special creation and that is unthinkable." (Islamic Thought, Dec. 1961) یعنی ارتقا ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے، اور وہ ثابت بھی نہیں کیا جا سکتا، ہم اس پر صرف اس لیے یقین کرتے ہیں کہ اس کا واحد بدل تخلیق کا عقیدہ ہے جو سائنسی طور پر ناقابل فہم ہے، گویا سائنسدان ارتقا کے نظریے کی صداقت پر صرف اس لیے متفق ہو گئے ہیں کہ اگر وہ چھوڑ دیں تو لازمی طور پر انھیں خدا کے تصور پر ایمان لانا پڑے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader