تبصرہ
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
ظاہر ہے کہ جو لوگ مادی طرز تعبیر کے حق میں اس قسم کے تعصّبات رکھتے ہوں، وہ انتہائی کھلے ہوئے واقعات سے بھی کوئی سبق نہیں لے سکتے، اور مجھے اعتراف ہے کہ ایسے لوگوں کو مطمئن کرنا میرے بس سے باہر ہے۔ اس تعصب کی بھی ایک خاص وجہ ہے، یہاں میں ایک امریکی عالم طبیعیات (George Herbert Blount) کے الفاظ نقل کروں گا: ’’ خدا پرستی کی معقولیت اور انکارِ خدا کا پھسپسا پن بجائے خود ایک آدمی کے لیے عملاً خدا پرستی اختیار کرنے کا سبب نہیں بن سکتا، لوگوں کے دل میں یہ شبہ چھپا ہوا ہے کہ خدا کو ماننے کے بعد آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا، وہ علما جو ذہنی آزادی (intellectual liberty) کو دل و جان سے پسند کرتے ہیں، آزادی کی محدودیت کا کوئی تصور ان کے لیے وحشت ناک ہے۔‘‘ The Evidence of God, P.130 چنانچہ جولین ہکسلے نے نبوت کے تصور کو ’’ناقابل برداشت اظہارِ برتری‘‘ قرار دیا ہے۔ کیوں کہ کسی کو نبی ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو یہ حیثیت دی جائے کہ اس کی بات خدا کی بات ہے، اور اس کو حق ہے کہ وہ جو کچھ کہے تمام لوگ اس کو قبول کرلیں۔ لیکن جب انسان کی حیثیت یہی ہے کہ وہ خالق نہیں مخلوق ہے، وہ خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ ہے، تو اس صورت واقعہ کو کسی خود ساختہ تصور کی بنا پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ہم حقیقت کو بدل نہیں سکتے، ہم صرف اس کا اعتراف کرسکتے ہیں۔ اب اگر شتر مرغ کا انجام ہم اپنے لیے پسند نہیں کرتے تو ہماری بہترین عقلمندی یہ ہے کہ جو کچھ ہے، اسے مان لیں، نہ یہ کہ جو کچھ ہے، اس کا انکار کردیں۔ حقیقت کا انکار کرکے آدمی صرف اپنا نقصان کرتا ہے، وہ حقیقت کا کچھ نہیں بگاڑتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader