استدلال کا طریقہ
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
استدلال کا طریقہ مذہب کے خلاف دورِ جدید کا جو مقدمہ ہے، وہ اصلاَ طریقِ استدلال کا مقدمہ ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کی ترقی نے حقیقت کا مطالعہ کا جو اعلیٰ اور ارتقا یافتہ طریقہ معلوم کیا ہے، مذہب کے دعوے اور عقیدے اس پر پورے نہیں اترتے۔ یہ جدید طریقہ مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ حقائق کو معلوم کرنے کا طریقہ ہے، اب چوں کہ مذہب کے عقائد ماورائے احساس دنیا سے متعلق ہونے کی وجہ سے تجربہ اور مشاہدہ میں نہیں آسکتے، اور ان کا استدلال تمام تر قیاس اور استقراء پر مبنی ہے، اس لیے وہ غیر حقیقی ہیں، ان کی کوئی علمی بنیاد نہیں۔ مثلاً خدا کے اثبات کے لیے ہم یہ نہیں کرتے کہ خود خدا کو کسی دوربین کے ذریعہ سے دکھا دیں، بلکہ یوں استدلال کرتے ہیں کہ کائنات کا نظم اور اس کی معنویت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی خدائی ذہن موجود ہے، اس طرح ہماری دلیل براہِ راست خدا کو ثابت نہیں کرتی بلکہ ایک ایسے قرینہ کو ثابت کرتی ہے، جس کے منطقی نتیجہ کے طور پر خدا کو ماننا پڑے۔ مگر یہ مقدمہ بجائے خود صحیح نہیں۔ جدید طریقہ مطالعہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف وہی چیز اپنا حقیقی وجود رکھتی ہے، جو براہِ راست ہمارے تجربے میں آئی ہو، بلکہ براہِ راست تجربے میں آنے والی چیزوں کی بنیاد پر جو علمی قیاس (inference) کیا جاتا ہے، وہ بھی اسی طرح حقیقت ہوسکتا ہے، جیسے کوئی تجربہ۔ نہ تجربہ محض تجربہ ہونے کی بنا پر صحیح ہے، اور نہ قیاس محض قیاس ہونے کی بنا پر غلط، ہر ایک میں صحت اور غلطی دونوں کا امکان ہے۔ پہلے زمانے میں سمندری جہاز لکڑی کے بنائے جاتے تھے۔ کیوں کہ تصور یہ تھا، پانی پر وہی چیز تیر سکتی ہے، جو وزن میں پانی سے ہلکی ہو۔ جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ لوہے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader